• 425
    Shares

بنگلہ دیش میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی سے متعلق فیس بک پوسٹ کی وجہ سے تشدد کے بعد دُرگا پوجا کے کئی پنڈالوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اقلیتی ہندو برادری کے کم از کم 150 خاندانوں پر حملہ کیا گیا۔ حکام نے تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔بنگلہ دیش کے ضلع کومیلا میں ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی افواہوں کے بعد تشدد بھڑک اٹھا جس کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تشدد میں تین افراد ہلاک اور دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایک پوجا پنڈال میں قرآن رکھ کر اس کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس کے بعد چاند پور کے حبیب گنج ، چٹاگانگ کے بنسخلی بازار ، کاکس بازار میں پیکووا اور شیو گنج میں چپائن نواب گنج سمیت کئی علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا اور پنڈالوں میں توڑ پھوڑ کی۔ہندو برادری کے کئی مندروں، گھروں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کے سلسلے میں پولیس نے اب تک 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ مقامی کمیونٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ علاقے میں مذہبی بنیاد پر تشدد کا ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔

اس تشدد کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر بنگلہ دیش ہندو اتحاد کونسل نے ٹوئٹر پر مسلم کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ کونسل نے وزیراعظم سے وہاں فوج بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔کونسل نے کہا ہے ’ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ افواہوں پر یقین نہ کریں، ہم قرآن کا احترام کرتے ہیں۔‘2011 کی مردم شماری کے مطابق بنگلہ دیش کی 149 ملین آبادی میں تقریباً آٹھ عشاریہ پانچ فیصد ہندو ہیں۔ ضلع کومیلا سمیت کئی دیگر اضلاع میں ہندو برادری کے لوگوں کی بڑی آبادی ہے۔

انڈین ریاست مغربی بنگال کی کئی تنظیموں نے بدھ کی رات ہونے والے اس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ وشو ہندو پریشد نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔کولکتہ میں دغرگا پوجا کا اہتمام کرنے والے ‘بھارت سنگھ’ کے سکریٹری سومِن بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ‘یہ بہت شرمناک ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں ان دنوں جس طرح تعصب بڑھ رہا ہے وہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو پہلے سے سکیورٹی انتظامات کرنے چاہیے تھے۔ یہ کچھ بنیاد پرستوں کی جانب سے فسادات بھڑکانے کی ایک سازش ہے’۔

بنگلہ دیش میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی سے متعلق فیس بک پوسٹ کی وجہ سے تشدد کے بعد دُرگا پوجا کے کئی پنڈالوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اقلیتی ہندو برادری کے کم از کم 150 خاندانوں پر حملہ کیا گیا۔ حکام نے تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

بنگلہ دیش کے ضلع کومیلا میں ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی افواہوں کے بعد تشدد بھڑک اٹھا جس کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تشدد میں تین افراد ہلاک اور دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایک پوجا پنڈال میں قرآن رکھ کر اس کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس کے بعد چاند پور کے حبیب گنج ، چٹاگانگ کے بنسخلی بازار ، کاکس بازار میں پیکووا اور شیو گنج میں چپائن نواب گنج سمیت کئی علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا اور پنڈالوں میں توڑ پھوڑ کی۔

ہندو برادری کے کئی مندروں، گھروں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کے سلسلے میں پولیس نے اب تک 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ مقامی کمیونٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ علاقے میں مذہبی بنیاد پر تشدد کا ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔

اس تشدد کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر بنگلہ دیش ہندو اتحاد کونسل نے ٹوئٹر پر مسلم کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ کونسل نے وزیراعظم سے وہاں فوج بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کونسل نے کہا ہے ’ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ افواہوں پر یقین نہ کریں، ہم قرآن کا احترام کرتے ہیں۔‘

2011 کی مردم شماری کے مطابق بنگلہ دیش کی 149 ملین آبادی میں تقریباً آٹھ عشاریہ پانچ فیصد ہندو ہیں۔ ضلع کومیلا سمیت کئی دیگر اضلاع میں ہندو برادری کے لوگوں کی بڑی آبادی ہے۔

انڈین ریاست مغربی بنگال کی کئی تنظیموں نے بدھ کی رات ہونے والے اس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ وشو ہندو پریشد نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کولکتہ میں دغرگا پوجا کا اہتمام کرنے والے ‘بھارت سنگھ’ کے سکریٹری سومِن بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ‘یہ بہت شرمناک ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں ان دنوں جس طرح تعصب بڑھ رہا ہے وہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو پہلے سے سکیورٹی انتظامات کرنے چاہیے تھے۔ یہ کچھ بنیاد پرستوں کی جانب سے فسادات بھڑکانے کی ایک سازش ہے’۔

سازش کا الزام
بعض پوجا پنڈالوں میں دُرگا کی مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزمان نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حکومت اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا ‘جن لوگوں نے کومیلا میں حملہ کیا ہے انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ حملہ تشدد بھڑکانے کی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے’۔

بنگلہ دیش کی ہندو برادری نے 13 اکتوبر کو یومِ سیاہ قرار دیتیے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آوروں نے کئی پوجا پنڈالوں میں توڑ پھوڑ کی اور کم از کم 150 خاندانوں پر حملہ کیا۔

کومیلا کے جس علاقے میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں ہندو اور مسلمان کئی دہائیوں سے مل جل کر رہتے ہیں۔ دُرگا پوجا کے دوران مسلم طبقے کے لوگ پنڈالوں میں بھی جاتے ہیں۔ اس وجہ سے وہاں پوجا پنڈالوں میں رات کے وقت کوئی سکیورٹی گارڈ نہیں ہوتا۔

کومیلا مہانگر پوجا صنعت سمیٹی کے جنرل سکریٹری شیو پرساد دت نے کہا ہے کہ قرآن کی مبینہ توہین کی خبر بے بنیاد ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ کسی نے مموا دیگھیر پار میں بنائے گئے پنڈال میں چپکے سے قرآن مجید کا ایک نسخہ رکھ دیا تاکہ تشدد کو بھڑکایا جا سکے۔ ان کے مطابق پنڈال میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنڈال میں قرآن رکھنے کے بعد کسی نے اس کی تصویر لی اور ویڈیو بنائی اور وہاں سے بھاگ گیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد فیس بک پر قرآن کی مبینہ توہین والی ایک پوسٹ وائرل ہو گئی۔

ہندوؤں کی مسلمانوں سے اپیل
اس تشدد کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے درمیان بنگلہ دیش ہندو اتحاد کونسل نے ٹوئٹر پر مسلم کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں کونسل نے وزیراعظم سے وہاں فوج بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کونسل نے کہا ہے ’ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ ہم قرآن کا احترام کرتے ہیں۔‘

کونسل نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں تشدد کے معاملے میں کئی الرٹ اور اپ ڈیٹ شیئر کی ہیں۔

ٹویٹ میں کونسل نے کہا ہے کہ ‘کومیلا کے تمام ہندوؤں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ مندر میں ایک ساتھ رہیں۔ ہماری بنگلہ دیش پولیس سے اپیل ہے کہ نانوہ ڈھیگر کے اس علاقے میں مدد کی جائے۔’

کونسل نے کہا ‘بنگلہ دیش کی تاریخ میں یہ دن قابل مذمت ہے۔ اشٹمی کے دن بتوں کے وسرجن کے دوران کئی پوجا منڈپوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ہندو اب پوجا منڈپوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آج پوری دنیا خاموش ہے’۔

ایک اور ٹویٹ میں کونسل نے کہا کہ ‘بنگلہ دیش میں ہندوؤں سے اتنی نفرت کیوں ہے؟ بنگلہ دیش کے ہندو یہیں پیدا ہوئے ہیں۔ 1971 میں اپنی جان گنوانے والوں میں زیادہ تر ہندو تھے۔ بنگلہ دیش میں ہندو مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ 8 فیصد ہندو 90 فیصد مسلمانوں کے لیے کیسے مسئلہ بن سکتے ہیں؟‘

ایک عینی شاہد قاضی تمیم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ‘قرآن کو اس طرح رکھا گیا تھا کہ اسے گلی سے گزرنے والا شخص بھی دیکھ سکے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ کسی کی سازش تھی۔‘ انہوں نے اس واقعہ کی پوری تفصیل فیس بک پر پوسٹ کی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اور انتظامیہ نے تشدد کی اطلاع پہلے دیے جانے کے بعد بھی اسے روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔

ویسے یہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد پر اکسانے والی سوشل میڈیا پوسٹس کا پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل رواں سال مارچ میں ایک ہندو شخص نے اسلامی تنظیم شفاعت اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا مفتی مومن الحق پر تنقید کی تھی۔

اس کے بعد تنظیم کے کارکنوں نے سنام گنج گاؤں میں 80 ہندو خاندانوں پر حملہ کیا تھا۔ گاؤں کے مذکورہ ہندو نوجوان مولانا کی کسی تقریر سے ناراض تھے اور اپنی پوسٹ میں ان پر تنقید کی تھی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔