بنگلورو:یہ کہانی ہے بنگلورو کے دو بائیکرز کی ۔دو بھائیوں کی۔ دو دوستوں کی ، دو ایسے نوجوانوں کی ہے۔ جنہیں موٹراسپورٹس کی برادری میں ہر کوئی جانتا ہے اور پہچانتا ہے۔ جن کی زندگی کا بڑاحصہ سڑکوں پر بائیک دوڑاتے اورورکشاپ میں بناتے گزرا ہے ۔جو شہر سے پہاڑوں تک سڑکوں پر دو پہیوں پر سوار ہوا سے بات کرتے نظر آتے ہیں ۔جن کےلئے بائیک اور سڑک ہی زندگی کی دھڑکن کی مانند تھے،جو کا شوق اور جنون ہیں بائیک۔


مگر ان دو بھائیوں کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے انہیں ایک نیا کردار ادا کرنے کا حوصلہ دیا جب دونوں نوجوانوں نے کورونا میں اپنی ماں کو کھویا۔ زندگی کے سب سے بڑے نقصان کے بعد انہیں دلی سکون کےلئے جو راستہ اختیار کیا وہ تھا انسانی خدمت کا۔لاک ڈاون میں بائک کا شوق اور جوش ترک کرکے انسانی خدمت کا بیڑا اٹھایا، کورونا کے دوران ان دونوں نے ایک نئی پہچان بنائی،جو ایمولینس ڈرائیور کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے دونو ں بھائیوں کا شوق ایک ہی ہے، مرتضی جنید بائیکر ہونے کے ساتھ آرٹ آف موٹر سائیکلنگ ورکشاپ کا مالک ہے۔ جبکہ مطیب زوہیب ایک ماسٹر بائیکر ہے۔

جی ہاں ! اس کہانی نے ہر کسی کا دل جیت لیا۔ ایک نازک وقت میں یہ انسانی خدمت ایک مثال بن گئی۔ دونوں بھائیوں کےلئےاپنی والدہ کو یاد کرنے اور انہیں ثواب بخشنے کا اس سے بہتر راستہ اور کیا ہوسکتا تھا۔مر تضی جنید اور مطیب زوہیب کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس شہر کو بچپن سے دیکھا اور سمجھا ہے۔لیکن کورونا کی وبا کے دوران شہر کے حالات نےانہیں بھی ہلا کر رکھ دیا ہے،انہوں نے سڑکوں پر ایسے مناظر دیکھے کہ کانپ گئے۔ اس دوران اپنی والدہ کو گنوایا۔اس غم نے انہیں اور بھی افسردہ کیا ،جس کے بعد دونوں بھائیوں نے جو عام زندگی میں تو ہوا سے بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں،میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

آج ہر کوئی انہیں سلام کررہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دونوں کی خوب پیٹھ تھپتھپائی جارہی ہے۔ اہم بات یہی ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران جب بنگلورو بدترین حالات سے گزر رہا تھا تو یہ دونوں نوجوان کسی چہار دیواری میں قید نہیں رہے۔ انہوں نے سنسان سڑکوں پر بائیک کے ساتھ کرتب دکھانے پسند کئے اور نہ ہی رفتار کا جادو ۔ان دونوں نے بنگلورو میں ایک ایسا وقت دیکھا کہ ہرکوئی پریشان تھا۔کوئی آکسیجن کےلئے بھاگ رہا تو کوئی ایمبولینس تلاش کررہا تھا۔کوئی انجکشن تلاش کررہا تھا تو کوئی اسپتال میں بستر۔ان دونوں نے ایک ایسا کردار نبھانے کا فیصلہ کیا جو کورونا کے مریضوں کی مدد میں سب سے اہم تھا۔ یعنی ایمبولینس ڈرائیورکا۔

جب بنگلورو میں نفسا نفسی کا عالم تھاتو دونوں بھائیوں نے اس کردار کے بارے میں سوچا اور قدم آگے بڑھا دئیے کیونکہ انہوں نے اسی وبا میں اپنی ماں کو گنوانے کا غم برداشت کیا تھا۔در اصل اس دور میں دونوں بھائیوں کو سوشل میڈیا پر کورونا کی دوسری لہر کے دوران مریضوں کو اسپتال پہنچانے کے لئے مدد کے متعدد پیغامات موصول ہورہے تھے۔زوہیب کا کہنا ہے کہ ہم نے شہر میں لوگوں کو کورونا کے مریضوں کو آٹو میں لیجاتے ہوئے دیکھا۔لوگوں کو ایمبولینس کے لئے پریشان دیکھا۔ دل پریشان رہتا تھا کہ ہم گھر میں کیا کررہے ہیں ،اس کے بعد ان کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ایمبولینس کےلئے اپنی خدمات انجام دیں جائیں ۔
جنید کے مطابق ہم دونوں نے کئی این جی او سے رابطہ قائم کیا اور بحیثیت ڈرائیور اپنی خدمات پیش کیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمیں کہیں سے بھی بہت حو صلہ بخش جواب نہیں ملا۔لیکن پھر ’’مرسی مشن‘ سے رابطہ کیا جس کے بارے میں اخبارات میں پڑھا تھا۔جب تنظیم سے رابطہ کیا تو فوری طور پر جواب آگیا ۔اگلے دن بلایا گیا اور پھر اس مشن کا آغا زہوگیا۔

زوہیب نے ایک مریض کو بچانے کےلئے بنگلورو سے گلبرگہ کا سفر تقریبا گیارہ گھنٹے میں پورا کیا تھا ،جس کے دوران وہ کہیں نہیں رکے تھے،ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے مختلف تجربہ تھا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس سفر کی نوبت اس لئے آئی تھی کہ مریض کو بنگلورو کے کسی بھی اسپتال میں بستر نہیں ملا تھا اور جان بچانے کےلئے اسے دوسریے شہرلیجانا ضروری تھا۔
دونوں بھائیوں نے ایک ایمبولینس ڈرائیور کی حیثیت سے کئی مریضوں کو بر وقت اسپتال پہنچا کر زندگی بچائی۔اس دوران وہ تنہا رہے ،انہوں نے اپنے اہل خاندان کو کسی اور مقام پر بھیج دیا تھا۔بنگلورو میں اب تک ان دونوں بھائیوں کی پہچان ایک محدود طبقہ تک تھی جو کہ موڈر اسپورٹس کا تھا لیکن اس نئے کردار نے انہیں نہ صرف بنگلورو اور ملک کا بلکہ دنیا بھر میں ہیرو بنا دیا ہے