کلکتہ۔ مرکزی دستوں کے789کمپنیوں کی تعیناتی کا الیکشن کمیشن آف انڈیانے فیصلہ کیاہے جو مغربی بنگال میں 10اپریل کو ہونے والے چوتھے دور کی رائے دہی کے دوران 44اسمبلی حلقہ جات میں تعینات کی جائے گی‘ اب تک یہ سب سے زیادہ دستوں کی تعیناتی کا عمل ہے۔

ریاست کمیشن کے ایک سینئر افیسر نے کہاکہ ”ریاست میں فی الحال مرکزی دستوں کی 800کمپنیاں موجود ہیں‘ مگر کمیشن نے فیصلہ کیاہے کہ 200کمپنیاں آسام روانہ کریں گے جہاں پر اختتامی دور کی رائے دہی ہے۔

اس سے مرکزی دستوں کی 1000کمپنیوں کی تعداد پہنچ جائے گی‘ جو الیکشن کے دوران کسی ریاست میں اب تک کی سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ مذکورہ زائد200کمپنیوں کو نارتھ بنگال میں استعمال کیاجائے گایہ آسان طریقہ ہوجائے گا“۔

ماباقی دستوں کو انتخابات کے بعد اسٹارنگ رومس اور انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد کی روک تھام کے لئے استعمال کیاجائے گا۔

کوچ بیہار کی نو حلقوں میں جہاں پر ہفتہ کے روز رائے دہی مقرر ہے بڑی تعداد میں دستوں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے بموجب197مرکز دستوں کی کمپنیاں ضلع کے 1882مقامات پر پھیلے ہوئے 3229بوتھس پر تعینات کئے جائیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق فی بوتھ5.7جوان کی تعیناتی ہوگی۔ ای سی عہدیدار نے کہاکہ ”کوچ بیہاربین ریاست اور قومی سرحدوں سے منسلک ضلع ہے جس کے پیش نظر جغرافیائی اعتبار سے یہ حساس ہے۔

ہم کوئی خطرہ موہ نہیں لینا چاہتے ہیں“۔ساوتھ24پرگناس ضلع کے 11اسمبلی حلقوں میں 184کمپنیوں تعینات کی جائیں گی۔ ان میں سے پانچ حلقے بشمول جادو پور‘ کسبا‘ بیہال ایسٹ‘ بیہال ویسٹ اور ٹوی گنج جو کلکتپ انتظامیہ کے حدود میں آتے ہیں اس کے لئے 100کمپنیوں کی منظوری دی گئی ہے

۔مذکورہ کمیشن نے دیگر 44کمپنیوں کی تعیناتی انتخابات انتظامات ریاست کے ماباقی چھ اسمبلی حلقوں میں انجام دینے کے لئے متعین کیاہے۔

ایک عہدیدار نے کہاکہ ”کلکتہ کے 721علاقوں میں 2343بوتھ پر ہونے والے انتخابات میں اسمبلی حلقوں کے لئے یہ سب سے بڑی تعیناتی ہے“۔

مزید براں ہولی ضلع کے 10اسمبلی حلقوں کے لئے مرکزی دستوں کی 174کمپنیاں‘ ہواڑہ ضلع کے لئے 140کمپنیاں اور علی پور دوار ضلع کے لئے 98کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔

کمیشن نے مرکزی دستوں کی چھ کمپنیاں جال پیگوری کے لئے منظور کی ہیں کیونکہ اس کی سرحدیں علی پورداؤر سے ملتی ہیں۔

مذکورہ عہدیدار نے کہاکہ ”علی پور داؤر کے کچھ بوتھس ہیں جو جالی پیگوری ضلع میں پڑتی ہیں اور چھ کمپنیاں اس ضلع کے لئے منظور کی گئی ہیں“۔


اپنی رائے یہاں لکھیں