Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

بنا دیکھے ایمان لانا

IMG_20190630_195052.JPG

محمد شعیب، عارض میڈیا

ایک مرتبہ مدینہ میں قحط پڑ گیا
بہت سے لوگ مدینہ سے ہجرت کر کے دوسرے علاقے چلے گئے
انہی vلوگوں میں ایک عظیم خاندان تھا
جو آل رسول ﷺ سے تھا
یہ ایک بیوہ خاتون تھیں اور ان کے ساتھ ان کی 7 کنواری جوان بیٹیاں بھی ساتھ تھیں

جب مدینہ کے منافقین نے ان کا مذاق اڑایا کہ
آل رسول ﷺ کا خاندان بھوکا اور بے سروسامان ھے
تو
ان بیوہ خاتون نے ہجرت کرنے میں ہی غنیمت جانی
آپ اپنی بچیوں کے ساتھ بڑے تکلیف دہ مراحل سے گزر کرثمر.قند پہنچیں
راستے کی تھکان اور بھوک پیاس کی تلکیف نے مزید چلنے سے روک دیا توآپ ایک درخت کے سائے میں اپنی بچیوں کو لے کر بیٹھ گیئں
لوگوں نے جب پا پردہ و باوقار خواتین کو اسطرح بے یارو مددگار بیٹھے دیکھا
تو ایک صاحب نے کہا کہ یہاں دو لوگ بڑے سخی ہیں
ایک حاکم جو مسلمان ھےدوسرا مجوسی
آپ ان سے پناہ لے لیجئیے وہ خاتون اٹھیں اورمسلمان حاکم کے گھر کے دروازے پر دستک دی
ایک ادھیڑ عمر شخص آیا
آپ نے کہا کہ دیکھیں میں مسافر ھوں اور میرے ساتھ میری جوان بچیاں بھی ساتھ ھیں آپ مسلمان ھیں اسلئے آپ سے درخواست ھے کہ مجھے پناہ دیجئیے
میں بہت پریشان ھوں اور رات ھونے کو ھے
اس شخص کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایا تھے
پھر خاتون نے کہا
کہ
دیکھیں میں مدینہ سے ہجرت کر کے آئی ھوں
اور میرا تعلق
آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ھے
اس شخص نے کہا کہ
کیا دلیل ھے کہ تم آل رسول ﷺ سے ھو ؟
خاتون نے جواب دیا
بیٹا مین بری عجلت میں گھر سے نکلی ھوں میرے پاس تو کوئی نشانی نہیں کہ
میں آل رسول ﷺ سے ھونے کا ثبوت دے سکتی
اس شخص نے بڑی بیزاری سے کہا
جاو جاو ،،،،اماں !!!!!! یہاں تو نجانے ایسےکتنے آتے ھیں
وہ خاتون واپس آکر بیٹھ گئیں
کسی نے کہا کہ آپ فلاں گھر پر جائیں
وہ مجوسی کا گھر ھے وہ شخص بہت سخی اور ہمدرد ھے
آپ اٹھیں اور اسکے دروازے پر دستک دے کر وہی الفاظ کہے جو مسلمان کو کہے تھے
یہ سننا تھا کہ مجوسی کے چہرے کا رنگ فق ھوگیا
اسنے فوراؐ اپنے گھر کا دروازہ کھول دیا اور نہایت عزت و احترام سے ان کو گھر میں بٹھا یا
اور اپنی بیوی سے کہا
کہ ان لوگوں کے کھانے پینے کو بندوبست کرو
تم نہیں جانتیں کہ یہ کتنے عظیم لوگ ھیں
یہ آل رسول ﷺ سے ھیں
یہ کہتے ہی اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ جلدی سے سودا سلف لینے چلا گیا
ابھی اس واقعے کو ایک دن ہی گزرا تھا کہ
اس مجوسی کے گھر پر ایک شخص نے دستک دی
مجوسی نے دروازہ کھولا
تو پڑوسی مسلمان حاکم کو پایا
ننگے سر ننگے پیر پریشان حال
مسلمان حاکم نے کہا
تیرے پاس ایک خاندان آیا ھے اسکو میرے حوالے کردے
مجوسی نے کہا کہ اب وہ میری پناہ میں ھیں
مسلمان نے کہا
کہ جا جا تیرا کیا کام تو تو مجوسی ھے
وہ مسلمان ھیں
اور
آل رسول ﷺ سے ھیں
تو انکو نہیں رکھ سکتا
مجوسی نے کہا کہ جب وہ تیرے پاس آئے تھے تو تو نے ان کو کیوں واپس کر دیا
اور اب کیا ھوا کہ ان کو لینے آیا ھے
مسلمان نے کہا کہ
جب میں نے اس خاندان کو واپس کیا اور میں دوپہر کو سویا تو
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں نظر آئے
آپﷺ نے فرمایا کہ یہ سامنے جو سونے کا محل ھے
ہیرے موتی اور جواہرات سے کنداں
یہ ایک ایمان والے کا ھے
میں نے کہا
حضور ﷺ میں ایمان والا ھوں
آپ ﷺ نے فرمایا کہ
تیرے پاس کیا دلیل ھے کہ تو ایمان والا ھے ؟
میں گھبرا کر اٹھ گیا
اور میں سمجھ گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دلیل کیوں مانگی
یہ سن کر مجوسی آنکھوں میں آنسو لئے زور زور سے ہنسنے لگا
مسلمان نے حیران ھو کر پوچھا
کہ تو ہنس کیوں رہا ھے ؟
اس مجوسی نے کہا کہ !
بن دیکھے سودا کیا تھا
تو نے خواب پورا نہیں دیکھا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ.وسلم کے پاس تو آیا میں
رسول اللہ ﷺ کے برابر میں میں کھڑا تھا
جیسے ہی آنکھ کھلی میں نے میرے پورے خاندان نے کلمہ پڑھ لیا

جا جا اپنا کام کر
وہ محل میرا ھے
اس عظیم خاندان کی مدد کی بدولت اللہ رب العزت نے مجھ سمیت میرے پورے خاندان کو ہدایت دے دی ھے
جا جا
دیکھ کر سودا کرتا ھے
وہ ایمان والا بھی میں ھوں
اور وہ محل بھی میرا ھے