بنارس میں مودی کےخلاف کسانوں، طلبہ کا زبردست مظاہرہ

0 22

بنارس۔30 ڈسمبر۔(سےاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی کے اپنے پارلیمانی حلقہ بنارس کے 16 ویں دورے کے دوران یہاں کسانوں، اساتذہ اور ملاحوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے اپنے مطالبات کیلئے جگہ جگہ دھرنا و مظاہرہ اور احتجاج کیا۔وزےراعظم مودی ہفتہ کے روز چاندپور میں بین الاقوامی رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کرنے پہنچے تو اردگرد رہنے والے کسانوں نے بڑی تعداد میں رنگ روڈ فیز۔2میں اراضی ایکوائرمنٹ میں مناسب معاوضہ نہ ملنے پر ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ متحدہ کسان مورچہ کے ضلع کنوینر ونے کمار رائے نے بتایا کہ ان کی قیادت میں مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو پولیس نے وزیر اعظم کے پروگرام ختم ہونے تک حراست میں رکھا۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت تحویل اراضی قانون 2013 ءکے تحت زمین کا معاوضہ نہیں دے رہی ہے اور مطالبہ کرنے پر افسران طرح طرح سے ڈراتے دھمکاتے ہیں۔کسان نیائے مورچہ کے کنوینر مہندر پرساد کی قیادت میں کسانوں نے کچہری چوراہا پر واقع کرپوری ٹھاکر پارک میں کالی پٹی باندھ کر احتجاج کیا۔ پرساد نے کہا کہ کسانوں کی مانگیں پوری ہونے تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔دوسری جانب گنگا ندی میں کروز چلانے کے خلاف سینکڑوں ملاحوں نے ہڑتال کرکے دشاشومیدھ گھاٹ پر دھرنا دےکر حکومت کو خبردار کیا کہ ان کی مانگیں نہیں مانی گئیں تو وہ اپنی تحریک تیز کردیں گے ۔ ہڑتال کی وجہ سے سارا دن گنگا میں کشتیوں کی سروس ٹھپ رہی، جس سے یہاں سیر کرنے اور پوجا کرنے آئے سیاحوں کو پریشانیاں جھیلنی پڑی۔ ملاحوں کا کہنا ہے کہ گنگا میں کشتی چلا کر وہ اپنی زندگی گزارتے ہیں، لیکن حکومت نے بغیر متبادل انتظام کے یہاں کروز چلانے کی اجازت نجی کمپنی کو دےدی اور آنے والے وقت میں اس کی تعداد اور بڑھانے کی بات کہی جا رہی ہے ، ایسے میں ان کے لئے بھکمری کے حالات پیدا ہوجائیں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مقامی انتظامیہ سے لے کر ایم پی اور وزیر اعظم تک فریاد کی گئی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی اجے رائے نے دھرنا کے مقام پر پہنچ کر ملاحوں کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے ملاحوںکی مانگیں فوری طور پرپوری کرنے کی درخواست کی۔ بغیر تنخواہ والے اساتذہ نے قانون ساز کونسلر امیش دوید¸ کی قیادت میں وزیراعظم کے پارلیمانی دفتر پر مظاہرہ کیا۔ بڑی تعداد میں استاد وزےراعظم مودی کو ان کے دفتر میں مطالبات کا میمورنڈم دینے جا رہے تھے ، لیکن پولیس نے انہیں کچھ دور پہلے بابا کینارام نامی مقام کے پاس روک کر حراست میں لے لیا تو وہ وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔