مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کے بارے میں یہ بات بی جے پی کے علاوہ سبھی بی جے پی مخالف سیاسی پارٹیاں کہتی تھیں کہ ان کی وجہ سے بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے یا دوسرے الفاظ میں کہیے کہ وہ بی جے پی کی مدد کرتے ہیں، لیکن اب یہ بات خود بی جے پی کے سینئر رہنما اور اناؤ سے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے کہی ہے کہ اویسی نے بی جے پی کی بہار میں مدد کی ہے اور اب وہ اتر پردیش اور مغربی بنگال میں بھی بی جے پی کی مدد کریں گے۔

ساکشی مہاراج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ایشور (خدا) کی کرپا (کرم ) ہے، ایشور انہیں شکتی (طاقت) دے۔ انہوں نے بہار میں ہماری (بی جےپی) مدد کی اور اب وہ اتر پردیش کے پنچایت اور اسمبلی انتخابات میں اور مغربی بنگال کے انتخابات میں بھی ہماری مدد کریں گے۔‘‘ واضح رہے مخالفین کے ذریعہ اسدالدین اویسی کی پارٹی پر بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم ہونے کے الزام لگاتار لگتے رہے ہیں۔ جبکہ اویسی نے ساکشی مہاراج کے اس بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ان کی پارٹی بی جے پی کی مدد کرتی ہے۔

واضح رہے بہار میں پانچ اسمبلی سیٹیں جیتنے کے بعد اویسی کے حوصلے بلند ہیں اور انہوں نے جہاں مغربی بنگال میں پیر زادہ کے ساتھ اتحاد کرنے کی بات کہی ہے اور ان کی حال ہی میں ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے، وہیں انہوں نے اتر پردیش میں یوگی حکومت میں وزیر رہے راجبھر کی پارٹی سے بھی انتخابی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ یہی نہیں کہ اویسی صرف ان دو ریاستوں میں ہی متحرک ہیں بلکہ ان تمام ریاستوں میں متحرک ہیں جہاں جلد اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، جیسے گجرات۔ اب ملک کی اکثر بی جے پی مخالف پارٹیوں کی رائے ہے کہ وہ بی جے پی مخالف ووٹوں کو تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

 حال ہی میں اپنے اتر پردیش کے دورے میں انہوں نے جہاں سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ان کو اتر پردیش میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، وہیں انہوں نے مدرسہ جانے اور مساجد میں نماز پڑھنے کو اپنے دورے کے پروگرام میں شامل کیا ہے۔ ان کے اس بیان کا مطلب یہ بھی نکالا جا رہا ہے کہ اب یوگی حکومت کے دور میں اویسی کے لئے تمام راستے کھلے ہیں، ان تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد عام لوگوں کی رائے یہ ہے کہ ان کے کسی بھی سیاسی قدم سے بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو فائدہ ہوتا ہے۔

BiP Urdu News Groups