بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی سطح کو صحت مند سطح پر رکھنا چاہتے ہیں تو مچھلی، اناج، بیجوں اور بیریز کو زیادہ کھانا عادت بنالیں۔درحقیقت اس غذا کا زیادہ استعمال کرنے پر جسمانی وزن میں کمی آئے یا نہ آئے مگر بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی سطح ضرور بہتر ہوسکتی ہے۔

یہ بات ڈنمارک، فن لینڈ، سوئیڈن اور آئس لینڈ کی یونیورسٹیوں کے زیرتحت ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس تحقیق میں نورڈک ڈائیٹ کے طبی فوائد کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔اس خطے کی روایتی غذا میں اناج جیسے جو یا رائی کی روٹی، چربی والی مچھلی، بیریز اور جڑوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

سابقہ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ یہ غذا جسمانی وزن میں کمی اور صحت بہتر بنانے کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔

اس نئی تحقیق میں 200 معمر افراد کے ڈیٹا کو اکٹھا کیا گیا تھا جن کا جسمانی وزن زیادہ تھا اور 6 ماہ تک ان کا جائزہ لیا گیا۔

ان میں سے نصف کو نورڈک ڈائیٹ کے استعمال کا مشورہ دیا گیا جبکہ دیگر کو اپنی غذائی عادات برقرار رکھنے کا کہا گیا۔تحقیق کے اختتام تک پہلے گروپ میں شامل افراد ‘نمایاں حد تک صحت مند’ ہوگئے۔

محققین نے بتایا کہ ان افراد میں کولیسٹرول، چربی کی سطح کم ہوئی جبکہ بلڈ شوگر کنٹرول بہتر ہوگیا اور ایسا اس وقت بھی ہوا جب ان کا جسمانی وزن کم نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن تھا کیونکہ بیشتر افراد کا ماننا ہے کہ بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی سطح پر مثبت اثرات اس وقت مرتب ہوتے ہیں جب جسمانی وزن کم ہوتا ہے۔

ان کے خیال میں نورڈک ڈائیٹ کو اپنانے کے بعد پراسیس غذاؤں کا استعمال ترک کرنے سے یہ فائدہ ہوتا ہے۔خیال رہے کہ پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال کو امراض قلب کے خطرے سے منسلک کیا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں نورڈک ڈائیٹ فائبر سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ وہ غذائی جز ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور کولیسٹرول کی سطح کم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔اسی طرح غذائیں جیسے مچھلی، گریاں اور بیجوں کے استعمال سے جسم کو صحت بخش چکنائی بشمول اومیگا تھری اور اومیگا 6 فیٹی ایسڈز ملتے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔