نئی دہلی: جہانگیر پوری میں ایم سی ڈی کی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ نے سماعت دو ہفتوں کے لئے ٹال دی ہے، تاہم عدالت نے آئندہ سماعت تک ایم سی ڈی کی کارروائی پر روک کو جاری رکھا ہے۔ اس دوران عرضی گزاروں نے الزام عائد کیا کہ کارروائی صرف ایک طبقہ کو نشانہ بنانے کے لئے کی جا رہی ہے۔ سالیسٹر جنرل نے ان الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ایک طبقہ کو نشانہ بنائے جانے کی بات غلط ہے کیونکہ ایم پی کے کھرگون میں مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے گھر گرائے گئے ہیں۔

آج تک کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل دشینت دوے نے دہلی پولیس کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، دہلی پولیس نے ایف آئی آر میں کہا ہے کہ بغیر اجازت کے جلوس نکالا گیا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

دوے نے اس پر کہا کہ دونوں باتیں آپس میں وابستہ ہیں۔ دوے نے کہا، بغیر اجازت کے جلوس نکالا گیا، اس کے بعد فساد برپا ہوا۔ پولیس نے ایک خاص طبقہ کے لوگوں کو ملزم بنایا اور اس کے بعد ایم سی ڈی نے کارروائی کی۔ وہیں، کپل سبل نے کہا، تجاوزات کا مسئلہ صرف دہلی کا ہی نہیں ہے بلکہ پورے ملک کا ہے لیکن یہاں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔