بلند شہر تشدد: ہندو تنظیموں کے 44 کارکنان پر ’غداری ملک‘ کے تحت کارروائی

0 13

ملک کو دہلا دینے والے سیانہ تشدد کے 44 ملزمان پر غداری ملک کی دفعات لگانے کی اتر پردیش حکومت نے اجازت دے دی ہے۔ یہ تمام ملزمان ہندو تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ تقریباً 6 مہینے قبل بلند شہر ضلع کے سیانہ میں گئو کشی کے نام پر ہندو تنظیموں نے کچھ کارکنان نے چنگراوٹھی پولس نے چوکی میں آگ لگا دی تھی۔ کئی پولس اہلکار کو جان بچا کر بھاگنا پڑا تھا اور ایک جانباز پولس انسپیکٹر سبودھ کمار شہید ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا تھا جب مسلمان لاکھوں کی تعداد میں تبلیغی اجتماع کے دوران موجود تھے۔ کچھ لوگوں نے تشدد کو ایک بڑی سازش کا حصہ قرار دیا تھا۔ سیانہ میں ہندو تنظیموں سے وابستہ لوگ مہاب گاؤں میں گائے کی باقیات ملنے سے ناراض تھے اور مشتعل ہو کر احتجاج کر رہے تھے۔ سیانہ کوتوال سبودھ کمار کے سمجھانے کے بعد بھی انہوں نے ہنگامہ اور توڑ پھوڑ کرنی بند نہیں کی۔ تشدد کے دوران بھیڑ میں شامل ایک شخص سمت کی موت ہو گئی جبکہ انسپیکٹر سبودھ کمار کو کلاڑی سے کاٹ کر قتل کر دیا گیا۔

اس واقعہ نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا تھا اور یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی یوپی حکومت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی تھی۔ وبال میں کئی حزب اقتدار سے جڑے کارکنان بھی شامل تھے۔ اب ایس آئی ٹی کی جانچ نے اس پر مہر لگا دی ہے کہ سیانہ میں بجرنگ دل کارکان سمیت دوسرے کئی ہندووادی تنظیموں کا کردار اہم تھا۔ علاوہ ازیں بجرنگ دل کے ضلع کنوینر یوگیش راج نے اس کی قیادت دی تھی۔ یوگیش راج نے گئو کشی کے الزام میں نیا گاؤں کے کچھ لوگوں کو نامزد کرایا تھا جنہیں جانچ یں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس نے گئو کشی کے الزام میں 11 لوگوں کو دھر دبوچا تھا، ان سبھی پر قومی سلامتی قانون کے تحت کارروائی کی گئی۔

سیانہ تشدد میں پولس نے 27 نامزد اور 50 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ان میں سے بجرنگ دل کے کارکنان سمیت 44 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ 8 لوگ الگ الگ ہندو تنظیموں میں عہدیداران ہیں۔ اس سے پہلے ایس آئی ٹی نے ان 44 فسدیوں پر غداری ملک کی دفعہ 124 (اے) بھی نافذ کر دی تھی لیکن اسے عدالت نے نامنظور کر دیا تھا۔ اب حکومت نے ایس آئی ٹی کو 124 (اے) لگانے کی اجازت دے دی ہے۔

ایس آئی ٹی کے سی او راگھویندر مشرا نے اس کی تصدیق کی ہے۔ غداری ملک کی دفعہ لگائے جانے کے بعد ہندو تنظیموں نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ضلع سکریٹری سریش کھنہ بدھ کے روز بلند شہر پہنچے تھے جہاں ان کو احتجاج برداش کرنا پڑا۔ غور طلب ہے کہ سیانہ وبال میں کچھ بی جے پی یوتھ ونگ کے کارکنان کے خلاف بھی چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔

وبال کے بعد سے دونوں فرقوں کے ملزمان تاحال جیل میں قید ہیں اور کسی کو ضمانت نہیں مل پائی ہے۔ ایس آئی ٹی کی چارج شیٹ میں بجرنگ دل کے کردار پر بھی سوال کھڑے کئے گئے ہیں۔ بلندشہر کی عدالت میں ایس آئی ٹی کی اس چارج شیٹ کے ضلع کا سیاسی پارہ چڑھا دیا ہے۔ خاص طور پر ہندوتوا تنظیموں میں سخت غصہ نظر آ رہا ہے۔ بلند شہر کے وی ایچ پی کے ایک عہدے دار نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر مدد مانگی ہے۔

وی ایچ پی کے سکریٹری اور ہندوتوا تنظیموں کے پروکار ایڈوکیٹ بھوشن ایس آئی ٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائے جانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ ایک ساتھ 44 ہندو تنظیموں کے کارکنان پر غداری ملک کی کارروائی سے بلند شہر میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

بی جے پی کے ضلع صدر ہمانشو متل کے مطابق انہوں نے 39 ملزمان پر سے غداری ملک کی دفعہ ہٹانے کی وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے۔ اس کو لے کر ایک وفد نے ان سے ملاقات بھی کی ہے، وفد میں بلند شہر کے رکن پارلیمان بھولا سنگھ اور سیانہ سے رکن اسمبلی دیویندر لودھی بھی شامل تھے۔ غور طلب ہے کہ اس سے پہلے گئو کشی کے ملزمان پر حکومت این ایس اے (قومی سلامتی ایکٹ) کے تحت کارروائی کر چکی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-