بلال احمد کاتب 16 /سالوں کے بعد جیل سے رہا

508

دیگر ملزمین کی رہائی کے لیئے کوشش کی جائے گی، گلزاراعظمی
ممبئی 28/ اگست(ای میل)اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں خصوصی مکوکا عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے بلال احمد عبدالرزاق (بلال کاتب) کی ضمانت 15/ جولائی 2022 کو بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے منظور کی تھی، ضمانت منظور ہوجانے کے باوجود بلال احمد کو جیل سے رہا ہونے میں دیڑھ ماہ کا عرصہ لگ گیا،پہلے تو تحصیل دار نے سالونسی سرٹیفیکٹ تیار کرنے میں بیس دنوں سے زائد کا وقت لے لیا پھر ممبئی سیشن عدالت کے رجسٹرارکے مشکل ترین پروسیجر کی وجہ سے رہائی میں تاخیر ہوتی رہی ہے بالآخیر آج بلال احمد نے 16 / سالو ں کے طویل عرصہ کے بعد کھلی فزاؤں میں سانس لی،تلوجہ جیل سے رہا ہونے کے بعد اے ٹی ایس افسران نے بلال احمد اور اس کے اہل خانہ کو پریشان کرنے کی کوشش کی لیکن بلال احمد اور اس کے اہل خانہ نے اے ٹی ایس کے ساتھ حسب سابق مکمل تعاون کیا۔

تلوجہ جیل سے رہا ہونے کے بعد بلال احمد سیدھے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے آفس پہنچ کر سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم سے ملاقات کی اور ضمانت سے لیکر جیل سے رہا کیئے جانے تک ان کے تعاو ن کے لیئے ان کا شکریہ ادا کیا۔  اس موقع پر بلال احمد نے مرحوم ایڈوکیٹ شاہد اعظمی کو بھی یاد کیا اور کہا کہ مرحوم شاہد اعظمی کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہے اور اللہ تبارک و تعالی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔بلال احمد کے ہمراہ ان کے بھائی اقبال احمد، نثار احمد اور بھانجے محمود انصاری و دیگر رشتہ دار موجود تھے جنہوں نے جمعیۃ علماء کی مدد کے لیئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر بلال احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت عرضداشت پر کامیاب بحث کرنے والے ایڈوکیٹ مبین سولکر اور ان کی معاون وکیل طاہرہ قریشی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔بلال احمد نے گلزار اعظی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی جیل میں سیکڑوں ملزمین ہیں جن کی امیدیں جمعیۃ علماء مہاراشٹر اورگلزاراعظمی اور ان کے وکلاء کی ٹیم سے ہے لہذا ان کی بھی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی امداد مہیا کرانے کے لیئے جمعیۃ علماء کے کام کومحروسین قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں جمعیۃ علما ء لیگل سیل سے نا قابل بیان امیدیں ہیں۔بلال احمد نے مزید کہا کہ ان کی گرفتاری اور بامبے ہائی کورٹ سے مکوکا قانون کو چیلنج کرنے والی عرضداشت مسترد ہونے کے بعد ان کے سامنے اندھیرا تھا لیکن اس درمیان جمعیۃ علماء سامنے آئی اور ہر محاذ پر مضبوطی سے مقدمہ لڑا۔

گلزار اعظمی نے بلال احمد کو یقین دلایاکہ ان تمام ملزمین کی ضمانت پرر ہائی کی کوشش کی جائیگی جنہیں عدالت سے ضمانت ملنے کی امید ہے، جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کا مقصد ہی یہ ہے کہ جیل میں قید ملزمین کو رہا کرایا جا ئے اور پھانسی کی سزا سے لوگوں بچایا جائے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کو ضمانت پررہا کرانے میں تاخیر ہوسکتی ہے لیکن جمعیۃ علماء کوشش کرنے سے گریز نہیں کریگی نیز بلال احمد کی ضمانت پر رہائی کو اگر اے ٹی ایس سپریم کورٹ میں چیلنج کرتی ہے تو سپریم کورٹ میں سینئر وکلاء کو بلال احمد کے دفاع کے لیئے تیار کیاجائے گا۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ احتیاطاً بلال احمد کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیر کو کیویٹ داخل کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح بلال احمد کو ضمانت ملی ہے انشاء اللہ جب اپیل پر ہائی کورٹ سماعت کریگی بلال و دیگر محروسین کو باعزت  برأت حاصل ہوگی۔واضح رہے کہ  28/  جولائی 2016 کو آرتھرروڈ جیل میں قائم خصوصی مکوکا عدالت نے اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے کا سامنا کررہے 20/ مسلم نوجوانوں میں سے 8/ مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کردیا تھا جبکہ3/ نوجوانوں کو آٹھ سال، 2/ نوجوانو ں کو 14/ سال قید بامشقت کی سزا نیز دیگر 7/ نوجوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
جن ملزمین کو عمر قید کی سزا ملی تھی ان میں محمد عامر شکیل، بلال احمد، افروز پٹھان،سید عاکف، فیصل عطاء الرحمن شیخ،اسلم کشمیری اور سید ذبیح الدین شامل ہیں،عمر قید کی سزا کاٹ رہے ملزمین میں سے بلال احمد ایسے پہلے ملزم ہیں جنہیں ضمانت نصیب ہوئی ہے۔