وزیراعظم کی جانب سے واقعہ کی تحقیقات کا حکم ، عراق میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان

بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد کے ابن الخطیب ہاسپٹل میں آکسیجن سلنڈر پھٹ پڑا جس کے نتیجہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 82 ہو گئی ہے جبکہ تقریباً 110 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بات انسانی حقوق کے کمیشن نے اتوار کو بتائی۔ یہ آگ ہاسپٹل میں کوروناکے مریضوں کے شعبے میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے لگی۔ وزارت صحت کے مطابق ہاسپٹل کے شعبہ کورونامیں 200 مریضوں کو بچا لیا گیا۔ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس المناک حادثے میں 82افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوئے۔دریں اثنا متعدد لاپتہ مریضوں کے افراد خاندان نے اپنے رشتہ داروں کی تلاش جاری رکھی ہے۔ بعض افراد کے متعدد رشتے دار حادثے کے وقت ہاسپٹل کے اسی شعبے میں زیر علاج تھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق آگ لگنے کے بعد کی صورتحال بیان سے باہر ہے۔ کوویڈ۔19 کے مریضوں کے شعبے میں آگ تیزی سے پھیل جانے کے سبب لوگ بڑی تعداد میں ہاسپٹل کی کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا رہے تھے۔عینی شاہد نے مزید بتایا کہ پہلے ہم نے پہلا دھماکہ سنا اور پھر دوسرا دھماکہ اس کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی اور اس کا دھواں ان بھائی تک پہنچ گیا۔ میں نے اپنے بھائی کو اٹھایا اور باہر سڑک پر لے گیا۔ میں لوٹ کر اندر گیا تو آخری منزل پر 19 سال عمر کی ایک لڑکی وہاں پھنسی ہوئی تھی۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا اور قریب تھا کہ وہ جان سے چلی جاتی۔واضح رہے کہ عراقی حکومت نے آج علی الصبح ایک بیان میں آگ لگنے کے اندوہناک واقعہ پر تین روز کے قومی سوگ کا اعلان کیا۔عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے کل شام جاری ہدایات میں واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم دیا تا کہ ذمہ دار افراد کا پتہ چلا کر انہیں سزا دی جا سکے جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ابن الخطیب ہاسپٹل میں فائر فائٹرز کوآگ بجھانے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ مریضوں اور ان کے رشتہ دار عمارت سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔عراقی شہری دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہاسپٹل میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں جس کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پورے ہاسپٹل کو اپنی لپیٹ میں لیا جبکہ مریضوں کو آگ کی وجہ سے وینٹیلیٹرز سے ہٹانا پڑا جس کے باعث زیادہ جانی نقصان کا سامنا ہوا۔انسانی حقوق کمیشن نے واقعہ کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے عراقی وزیراعظم سے وزیر صحت کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں