چتور گڑھ ، 25 اکتوبر (یو این آئی) راجستھان کے ضلع چتور گڑھ میں بچہ شادی کے بعد اس کے والدین کےذریعہ اب ’ناطہ شادی‘ کرنے کی کوشش اورقانوناً اپنے شوہر کے پاس بھی جانے سرقاصر ایک نابالغ کامستقبل بری رسم اورقانون کے درمیان الجھ گیا ہے۔
سامنے آنے والے معاملے کے مطابق ، ضلع کے بھادسوڈا علاقے کے رہائشی اور اس وقت احمد آباد میں مزدور کی حیثیت سے کام کرنے والے بابولال تیلی نے اپنی بیٹی کی کم سنی میں شادی سال 2018 میں چندیریا کے رہنے والے رتن لال تیلی سے کی تھی، اس وقت لڑکی تقریباً 15 سال کی تھی جس کے بعد اسے سسرال بھیج دیا گیا۔ گزشتہ مئی میں دونوں خاندان ایک خاندانی پروگرام میں بھی شامل ہوئے لیکن اس کے بعد لڑکی کے والدین نے چندیریا تھانہ میں اس کے شوہر رتن لال اورساس سسر کے خلاف لڑکی کااغوا اورعصمت دری کامعاملہ درج کرادیا۔

پولیس نے لڑکی کو بازیاب کرکے عدالت میں 164 کے تحت بیان درج کرائے جس میں لڑکی نے اپنی مرضی سے اپنے سسرال شوہر کے ساتھ جانا بتاتے ہوئے وہیں رہنے کی خواہش ظاہر کی اوراپنی ماں پر الزام لگایا کہ وہ اس کی شادی کسی دیگرشخص کے ساتھ پیسے لے کر کراناچاہتی ہے۔ لڑکی کی عمر 17 سال اور کچھ ماہ ہونے سے پولیس نے اس کے شوہر کوسونپنے سے انکار کرتے ہوئے اسے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے حوالے کر دیا، جہاں کونسلنگ کے دوران اس نے اپنے والدین کے بجائے اپنی خالہ کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی، جس پر کمیٹی نے خالہ کو قانونی طور پر حوالے کردیالیکن چند روز بعد ہی لڑکی دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی اور بتایا کہ اس کی والدہ اور ماموں وہاں آتے ہیں اور اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں جس پر کمیٹی نے اسے شیلٹرہاوس کے حوالے کردیا۔

اس کے بعد اس کی مرضی پر کمیٹی نے اسے رشتے میں اس کے بڑے ممی پاپا کو ضوابط کے مطابق سونپ دیا لیکن اس کے خلاف بھی لڑکی کے والدین نے پولیس میں شکایت درج کرانے پر پولیس لڑکی کو دوبارہ کمیٹی کے حوالے کردیا۔ اس کے بعد اس بارے میں اسٹیٹ چائلڈ کمیشن کوشکایت کرنے پر لڑکی کو ادے پورواقع کمیونیکیشن ہوم بھیج کر میڈیکل کرایا جہاں پر اس کے حاملہ ہونے کی بات سامنے آئی جس بعد ریاستی کمیشن کے ممبران کی ایک ٹیم نے افسر کے سامنے کاونسلنگ کی جس میں لڑکی نے اپنے شوہر سے حاملہ ہونا بتایا۔

لڑکی کا مستقبل بچہ شادی،’ناطہ شادی‘ جیسے برے رسم رواج کے ساتھ قانون کے جال میں الجھ کر رہ گیا ہے جس کے سبب وہ اپنا اسقاط حمل تک کرانے پر متفق ہے لیکن اب اس کی مرضی کے خلاف اسے والدین کے حوالے نہیں کیا جاسکتا اور نابالغ ہونے کے سبب قانونی طورپر اس کے شوہر کے بھی حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ فی الحال اسے ادے پور کے ناری نکیتن میں رکھاگیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔