نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قرآن مجید سے 26 آیات کو ہٹانے سے متعلق عوامی مفاد کی رٹ پٹیش کو خارج کردیا۔ اس کے ساتھ ہی درخواست گزار ملعون وسیم رضوی پر پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے عوامی مفاد کی رٹ پٹیش دائر کرکے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ قرآن شریف کی 26 آیات کو ختم کیا جائے۔ رضوی کے مطابق ، یہ خصوصی آیات انسانوں کو پرتشدد اور دہشت گردی کی تعلیم دے رہی ہیں۔

درخواست میں وسیم رضوی نے دعوی کیا ہے کہ ان آیات کے حوالے سے دنیا کے لوگوں کو دہشت گرد بنایا جاتا ہے۔

وسیم رضوی کی درخواست خارج اور پچاس ہزار روپئے جرمانہ: حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا بیان

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پریس نوٹ کے مطابق آج سپریم کورٹ کی سہ رکنی بینچ کے سامنے قرآن مجید کی آیات کے سلسلہ میں وسیم رضوی کی درخواست پر مختصر بحث ہوئی، بینچ نے متفقہ طور پر اس درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا، اور اُس پر پچاس ہزار روپئے کا جرمانہ بھی لگایا، بورڈ کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ جناب یوسف حاتم مچھالہ صاحب، جناب ایم آر شمشاد صاحب ایڈوکیٹ اور جناب محمد طاہر ایم حکیم صاحب ایڈوکیٹ نے پیروی کی؛ لیکن بورڈ کی طرف سے بحث کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، عدالت نے وسیم رضوی کا بیان سن کر ہی درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے پچاس ہزار روپئے جرمانہ کے ساتھ مقدمہ خارج کر دیا۔

پریس ریلیز مسلم پرسنل لاء بورڈ