بنگلور:15. مارچ ۔( ورق تازہ نیوز)کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب تنازعہ پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب پہننا کوئی لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’طلبہ یونیفارم پہننے سے انکار نہیں کر سکتے‘۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے مسلم لڑکیوں کی عرضی کو خارج کر دیا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ’’حجاب پہننا کوئی لازمی مذہبی عمل نہیں ہے‘‘

حجاب تنازعہ سے متعلق معاملہ پر فیصلہ 3 ججوں چیف جسٹس رتوراج اوستھی، جسٹس کرشنا دیکشت اور جسٹس جے ایم قاضی پر مشتمل ڈویزن بنچ نے سنایا۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے اس معاملہ میں 15 دنوں تک سماعت کی اور گزشتہ مہینے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ وہیں، معاملہ کی حساس نوعیت کے پیش نظر ریاستی حکومت نے کرناٹک کے اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ جو علاقے زیادہ حساس ہیں ان میں اسکول کالجوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عدالت عالیہ نے اس معاملہ میں تین سوالوں کے جواب دیئے۔ پہلا سوال یہ کہ آیا حجاب پہننا اسلام کا لازمی جز ہے؟ عدالت نے اپنے جواب میں کہا کہ مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلام کا لازمی جز نہیں ہے۔ دوسرا سوال یہ کہ آیا اظہار رائے کی آزادی اور حق رازداری کے تحت حجاب پہننا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے؟ اس کے جواب میں عدالت نے کہا کہ اسکول یونیفارم کے تعین پر طلبا اعتراض ظاہر نہیں کر سکتے۔ اسکولی یونیفارم کا تعین ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

معاملہ کی سماعت کے دوران تیسرا سوال یہ اٹھایا گیا کہ آیا کرناٹک حکومت کی جانب سے 5 فروری 2022 کو جو حکم نامہ جاری کیا گیا ہے وہ منمانے طور پر جاری کیا گیا ہے اور کیا یہ حکم نامہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی کرتا ہے؟ اس کے جواب میں عدالت نے کہا کہ چونکہ ریاستی حکومت کو اس حکم نامہ کو جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے لہذا اسے منمانا نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ عرضی گزار ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائے کہ حکومت نے منمانے طور پر فیصلے پر عمل درآمد کیا ہے۔

کرناٹک میں حجاب پر تنازع جنوری میں اس وقت شروع ہوا تھا، جب یہاں اڈوپی کے ایک سرکاری کالج میں 6 طالبات حجاب پہن کر کالج میں داخل ہوئیں۔ کالج انتظامیہ نے طالبات کو حجاب پہننے سے منع کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اسے پہن کر آئیں۔ اس کے بعد طالبات نے پریس کانفرنس کر کے کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج درج کرایا تھا۔ اس کے بعد حجاب کے تعلق سے کرناٹک سے لے کر پورے ملک میں تنازع شروع ہو گیا۔ اسکولوں میں حجاب کی حمایت اور مخالفت میں مظاہرے شروع ہو گئے اور معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔

قبل ازیں، کرناٹک حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں یونیفارم کو لازمی قرار دینے کے احکامات صادر کئے تھے۔ اس کے تحت سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں مقررہ یونیفارم پہنی جائے گی، جبکہ نجی اسکول بھی اپنی خود کی یونیفارم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

حجاب پر پابندی کے بعد کچھ طلبہ نے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا، لیکن ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کی جانب سے اسے 3 ججوں کی بنچ کو منتقل کر دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے عبوری طور پر تا حکم ثانی اسکولوں اور کالجوں میں مذہبی لباس پہننے پر پابندی کو برقرار رکھا تھا۔