بریکینگ نیوز:پاپولر فرنٹ آف انڈیااور اسکی ذیلی تنظیموں پر پانچ سال کی پابندی عائد

1,100

انڈیا کی حکومت نے متنازع مسلم تنظیم ’پاپولر فرنٹ آف انڈیا‘، اس سے منسلک تنظیموں اور اداروں کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پابندی پانچ برس کے لیے عائد کی گئی ہے۔ اس ضمن میں جاری ہونے والے وزارت داخلہ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو آئندہ پانچ برسوں تک ایک غیر قانونی ادارے کے طور پر دیکھا جائے گا۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس سے منسلک ادارے اور افراد ’غیرقانونی‘ کاروائیوں میں ملوث ہیں جو انڈیا کی سالمیت، سکیورٹی اور خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تنظیم ’خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا تھی اور معاشرے کے ایک مخصوص طبقے کے افراد کو سخت گیر نظریات اپنانے کی ترغیب دے رہی تھی۔

حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پاپولر فرنٹ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش اور نام نہاد دولت اسلامیہ سے بھی مبینہ طور پر منسلک ہے۔ تاہم پاپولر فرنٹ ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے۔
وزارت داخلہ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’پاپولر فرنٹ کے عالمی دہشت گرد گروپوں کے ساتھ روابط کی کئی مثالیں ہیں۔ پی ایف آئی کے کچھ ارکان نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی ہے اور شام، عراق اور افغانستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔‘

تنظیم کے خلاف کریک ڈاؤن

یاد رہے کہ انڈیا میں متنازع مسلمان گروپ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے کارکن گذشتہ کئی روز سے مظاہرے کر رہے ہیں کیونکہ چند روز قبل ہی حکام نے مختلف انڈین ریاستوں میں اُن کے دفاتر پر چھاپے مارے اور اس کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا تھا۔

گذشتہ ہفتے منگل کے روز کو ملک کی سات ریاستوں میں چھاپوں کے بعد 150 سے زیادہ لوگوں کو پی ایف آئی کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ جبکہ اسی روز یعنی 27 ستمبر کو دہلی، اتر پردیش، کرناٹک، گجرات، مہاراشٹر، آسام اور مدھیہ پردیش میں چھاپے مارے گئے۔

اس سے پانچ دن پہلے بھی پی ایف آئی کے خلاف اسی طرح کے چھاپے مارے گئے تھے۔ 22 ستمبر کو 15 ریاستوں میں چھاپے مار کر 106 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ٹی وی چینل ’نیوز 18‘ نے این آئی اے کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’یہ اب تک کا سب سے بڑا تفتیشی عمل تھا۔‘

ان گرفتاریوں کے بعد ریاست کیرالہ اور تامل ناڈو میں پی ایف آئی کے ارکان نے احتجاج کیا۔
اس سے قبل انڈیا کے شہر پونے میں بننے والی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی کیونکہ اس میں مظاہرین کو ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق یہ ویڈیو جمعہ کو اس وقت بنی تھی جب ایک اسلامی تنظیم ‘پاپولر فرنٹ آف انڈیا’ کے کارکن پونے کے مقامی مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر احتجاج کی غرض سے جمع ہوئے تھے۔

یہ مظاہرین اپنی تنظیم کے خلاف سکیورٹی اداروں کے جاری کریک ڈاؤن اور رہنماؤں کے گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اس موقع پر چند مظاہرین کو گرفتار کر رہی ہے اور اسی وقت مظاہرین کے ہجوم میں سے ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگتے ہیں۔

گروپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پی ایف آئی کے قومی، ریاستی، اور مقامی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ انھوں نے حکومت پر وفاقی اداروں کے ذریعے اُن کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا۔

این آئی اے نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ پانچ مقدمات میں شبے کی بنیاد پر تنظیم کے 45 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایجنسی کے مطابق انھیں چھاپوں کے دوران انھیں ایسی دستاویزات ملی ہیں جن میں ایسے شواہد موجود ہیں جنھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ایجنسی کے مطابق چھاپوں ’نقدم رقوم، تیز دھار ہتھیار اور بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل آلات‘ بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔

مگر یہ یہ گروپ کیا ہے، اس کا قیام کیسے عمل میں آیا اور اب ان کے خلاف ایکشن کیوں لیا جا رہا ہے؟