آسٹریلیا کے لیجنڈ کرکٹر شین وارن جمعہ کو 52 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

وارن کی انتظامیہ نے آسٹریلوی میڈیا کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ "شین اپنے ولا میں بے سدھ پڑے ہوئے پائے گئے طبی عملے کی بہترین کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہیں کیا جا سکا۔”

وارن، جنہیں وزڈن کے پانچ صدی کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک قرار دیا گیا تھا، نے 1992 سے 2007 کے درمیان 15 سالہ کیریئر میں 708 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں، اور 1999 میں آسٹریلیا کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنے والے بھی تھے۔

وارن کی انتظامیہ کی طرف سے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک مختصر بیان کے مطابق، ان کا انتقال تھائی لینڈ میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔

شین وارن نے 145 ٹیسٹ کرکٹ میچ کھیلے جن میں انھوں نے کل 708 وکٹیں حاصل کیں جو کہ دنیا میں اب تک کسی بالر کی جانب سے لی گئی سب سے زیادہ وکٹوں کی فہرست میں دوسرا نمبر ہے۔

ان کی منیجمنٹ کمپنی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ جمعے کو تھائی لینڈ میں اپنے وِلا کوہ سموئی میں بے سدھ پائے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت افسوس کے ساتھ ہم یہ بتا رہے ہیں کہ شین وارن کے مرنے کی وجہ ہارٹ ایٹک لگ رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ میڈیکل سٹاف کی بہت کوششوں کے باوجود وہ شین وارن کو نہیں بچا پائے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے خاندان کی جانب سے اس وقت پرائیوسی کا خیال رکھنے کی درخواست کی گئی تھی اور مزید تفصیلات مناسب وقت پر دی جائیں گی۔

شین وارن کی اچانک وفات کی خبر نے کرکٹ کی دنیا ان کے ساتھی کرکٹرز اور ان کے مداحوں کو ایک صدماتی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
ٹویٹر پر ان کے لیے دیگر ٹرینڈز کے علاوہ ایک ٹرینڈ کا عنوان ہے اونلی 52 فقط 52۔ انھیں چاہنے والے ان کے اتنے جلد چلے جانے پر دلی افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سابق کرکٹروسیم اکرم نے شین وارن کی موت کی خبر پر لکھا: میں اپنے دوست وارنی کی اچانک موت خبر کو سن کر صدمے اور شدید رنج میں مبتلا ہو۔۔۔ وہ ہمیشہ رابطے میں رہتا تھا اور ہمیشہ مدد کرتا تھا۔۔۔ ایک بے مثال بولر وہ زبردست انٹرٹینر تھا۔۔۔۔ خاندان اور دوستوں سے میری تعزیت۔۔۔۔

پاکستانی کرکٹر محمد رضوان نے شین وارن کی وفات پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ یقینی طور پر ایک عہد کا خاتمہ ہے۔

انڈین کرکٹر شیکر دھون نے شین وارن کے جانے کو کرکٹ کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے قرار دیا انھوں نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں۔ آپ کا شکریہ آپ نے کھیل کے لیے سب کچھ کیا۔

کرکٹ والا کے ٹویٹر ہنڈل سے سوشل میڈیا پر جانے جانے والے صحافی و کالم نگار ایاز میمن نے شین وارن کے حوالے سے لکھا باغیانہ انداز کے ساتھ ایک دلچسپ کردار (جس کی وجہ سے شاید اسے کپتانی کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے) وہ ایک زبردست میچ ونر تھا، میچ میں آگے رہنے کے لیے ہر وقت پلاٹنگ اور منصوبہ بندی کرتا تھا۔ صرف 52۔ تم بہت جلد چلے گئے۔

برطانوی اداکار میک فارلین نے ااس افسوسناک خبر پر شاک کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا مجھے اس خبر کو دو بار لکھنا پڑا۔

سابق انڈین کرکٹر محمد اظہر الدین نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ دو عظیم کھلاڑیوں روڈنی مارش اورشین وارن کے چلے جانے پر اپنی احساسات کو بیان کرتے ہوئے میرے لفظ کھو گئے ہیں۔ مجھے شین وارن کے ساتھ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی بہت اچھی یادیں موجود ہیں۔ یہ کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔