بریلی: آپ اسے اتر پردیش میں سرکاری اعداد و شمار کی گڑبڑی قرار دیں یا غفلت یا دھاندلی کا نام دیں لیکن یہ سچ ہے کہ ریاست کا محکمہ صحت اس مشکل دور میں بھی عام لوگوں کے ساتھ مذاق کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر بریلی کے سبھاش نگر علاقہ کے للت موہن گرگ کا معاملہ دیکھیں۔ 24 اپریل کو اس کی موت ہوگئی ، لیکن 20 دن بعد ، اس کے موبائل فون پر ایک پیغام بھیجا گیا جس میں انہیں بتایا گیا کہ انہیں کووی شیلڈ کی دوسری خوراک دی گئی ہے۔ جب دو دن پہلے للت موہن کے بیٹے نے اپنا موبائل فون دیکھا تو یہ عجیب و غریب معاملہ منظرعام پر آیا۔سبھاش نگر کے ایک کاروباری للت موہن گرگ کی طبیعت 24 اپریل کو خراب ہو گئی تھی۔ ان کا بیٹا انہیں نجی ایمبولینس کے ذریعے بریلی شہر کے متعدد اسپتالوں کا چکر لگاتا رہا لیکن انہیں وینٹی لیٹر اور بیڈ نہیں مل سکا اور وہ دم توڑ گئے۔

شہر کے اندر ہی ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال لے جانے کے عوض میں ایمبولینس والے نے 30 ہزار روپے وصول کیے۔ابھی دو دن پہلے جب للت موہن کے بیٹے منوج نے اپنے والد کا موبائل فون دیکھا تو محکمہ صحت کا پیغام دیکھ کر وہ چونک گیا۔ یہ پیغام 14 مئی کو بھیجا گیا تھا اور لکھا گیا تھا کہ للت موہن کو 14 مئی کو شام 5 بجکر 4 منٹ پر کوی شیلڈ کی دوسری خوراک دی گئی تھی۔ اس پیغام میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ للت موہن اپنا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں!صرف یہی نہیں للت موہن کی اہلیہ یعنی منوج کی والدہ کو محکمہ صحت کی جانب سے یہ پیغام بھی بھیجا گیا ہے کہ انہیں بھی ویکسین کی دوسری خوراک دی گئی ہے۔

منوج کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کو بھی ابھی تک دوسری خوراک نہیں دی گئی ہے۔اس سلسلے میں بریلی کے سی ایم او ڈاکٹر سدھیر گرگ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر پورٹل میں کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس طرح کے پیغامات پہنچ رہے ہیں۔ اسے ٹھیک کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ پہلی خوراک حاصل کر چکے ہیں۔ وہ کارڈ لے کر پہنچیں گے تبھی انہیں دوسری خوراک دی جائے گی۔