• 425
    Shares

برہمن لڑکی سے شادی کرنے والے دلت نوجوان انیش کمار چودھری کو 24 جولائی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ انکے گھر والوں کا الزام ہے کہ اس قتل کے پیچھے انیش کے سسرال والوں کا ہاتھ ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ انیش کی بیوی دیپتی مشرا کے گھر والے اس شادی سے خوش نہیں تھے۔ دوسری طرف دیپتی کی والدہ کا کہنا ہے کہ انیش کے قتل میں ان کے گھر والوں کا ہاتھ نہیں ہے۔انیش کے قتل کے معاملے میں 17 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے اور ان میں سے چار کو مقامی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

 

انیش اور دیپتی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے یونیورسٹی، گورکھپور سے ایک ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی تھی حالانکہ دونوں کے مضامین مختلف تھے۔انیش نے قدیمی تاریخ میں ایم اے کیا تھا جبکہ دیپتی نے عمرانیات میں ایم اے کیا تھا۔ انیش اور دیپتی کو کیمپس میں گرام پنچایت آفسر کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔دیپتی کا کہنا ہے کہ یہ عہدہ ملنے کے بعد انیش کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات نو فروری 2017 کو گورکھپور کے وکاس بھون میں ہوئی تھی۔اسی عہدے پر منتخب ہونے کے بعد یونیورسٹی کیمپس سے شروع ہونے والی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک ساتھ ٹریننگ کے دوران دونوں اور قریب آگئے۔

 

دیپتی کا کہنا ہے اس رشتے کے بارے میں معلوم ہوتے ہی ان کے گھر والے انھیں پریشان کرنے لگے۔’اس کے بعد ہم نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے شادی کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ مجھے لگا کہ ایک بار میری شادی ہوجائے گی تو اس کے بعد میرے گھر والے کہیں اور میری شادی نہیں کرسکیں گے۔‘وہ بتاتی ہیں کہ انکے دوست اور حلقے میں ہر ذات اور مذہب کے لوگ تھے اور وہ ذات پات پر یقین نہیں رکھتیں۔دیپتی کے والدین اس شادی کے لیے راضی نہیں تھےانیش اور دیپتی نے عدالت میں اپنی شادی کا اندراج کرایا۔ شادی کے کاغذات کے مطابق دونوں کی شادی 12 مئی 2019 کو گورکھپور میں ہوئی۔ ان کی شادی کو نو دسمبر 2019 کو عدالت نے تسلیم کیا تھا۔

 

دیپتی کا کہنا ہے ‘ہم دونوں بالغ تھے اور ملازمت پیشہ تھے اور ہمیں لگتا تھا کہ ہمارے گھر والے اس شادی کی مخالفت نہیں کریں گے اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو ہم ان کو راضی کرلیں گے۔ میں نے اپنے گھر والوں کو بھی بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ راضی نہیں ہوئے’۔وہ کہتی ہیں ‘انیش کے ساتھ شادی کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھ پر ذہنی تشدد کرنا شروع کیا۔’کبھی باپ بیمار پڑتا تھا تو کبھی ماں۔ والد کہا کرتے تھے مجھے دل کا دورہ پڑ جائے گا اور میں مر جاؤں گا۔ اور جب میں نہیں مانتی تھی تو میرے گھر والے انیش کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے۔ انیش کی حفاظت کے لیے مجھے کئی بار اپنے گھر والوں کی بات ماننی پڑتی تھی کیونکہ میں انیش کو ہر قیمت پر بچانا چاہتی تھی۔‘دیپتی ضلع گورکھپور کے دھرمیسن گاؤں کے رہائشی نِلن کمار مشرا کی بیٹی ہیں۔ دیپتی چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ انکی دو بہنیں اور ایک بھائی بھی شادی شدہ ہیں۔ انکا بھائی اتر پردیش پولیس میں ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اتنے بڑے گھرانے میں کسی نے بھی ان کی حمایت نہیں کی ، دیپتی کا کہنا تھا ‘نہیں ، انکے گھر والوں میں سے کسی نے بھی ان کی حمایت نہیں کی’۔

انیش کے خلاف مقدمہ

دیپتی کے والد نلِن نے کئی سال دبئی میں کام کیا۔ وہ اگست 2016 سے اپنے گاؤں کے قریب ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکان چلا رہے ہیں۔ ان کے والد نے انیش کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں انکے خلاف ریپ جیسے بہت سے الزامات لگائے گئے تھے۔دیپتی نے بتایا کہ اس معاملے میں انھوں نے گھر والوں کے دباؤ میں انیش کے خلاف بیان دیا کیونکہ وہ انیش کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔وہ کہتی ہیں انکے والد ، چچا اور کزن ہر جگہ ان پر نظر رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب وہ دفتر جاتیں تب بھی لوگ ان کے ساتھ جاتے تھے۔ بعض اوقات چاچا انکے والد کی لائسنس شدہ رائفل لے کر انکے ساتھ جاتے تھے۔

دیپتی بتاتی ہیں کہ جب انیش کے جیل جانے کی بات آئی تو وہ 20 فروری کو انکے ساتھ رہنے چلی گئیں۔اس کے بعد انکے والد نے پولیس اسٹیشن میں انیش کے خلاف دیپتی کے اغوا کا مقدمہ درج کیا۔ اس پر دیپتی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں اغوا نہیں کیا گیا ہے اور وہ خود اپنی مرضی سے انیش کے ساتھ رہ رہی ہے اور دونوں نے شادی کرلی ہے۔انیش کے گھر والوں نے 28 مئی کو گورکھپور کے مہادیو جھارکھنڈی مندر میں ان دونوں کی شادی کروا دی تھی۔ اسی دن گورکھپور کے اونتیکا ہوٹل میں انھوں نے عشائیہ بھی منعقد کیا۔ دونوں پروگراموں میں صرف انیش کے گھر والوں اور انھی کے رشتے داروں نے شرکت کی۔

 

دیپتی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انیش بھی تھوڑے لاپرواہ ہوگئے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ یہ ان کا اپنا علاقہ ہے اس لیے یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن یہ غفلت بھاری پڑی۔انیش کا خاندان گورکھپور کے انولی ڈوبولی گاؤں میں رہتا ہے۔ یہ دلتوں اور پسماندہ افراد کی آبادی والا گاؤں ہے۔ انیش کے بڑے بھائی انیل چودھری 10 سال تک اس گاؤں کے پردھان رہے ہیں۔ 2015 میں پردھان کا عہدہ پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔پھر انل نے اپنی بیوی گیتا دیوی کو الیکشن میں کھڑا کیا اور وہ بھی جیت گئیں۔انیش کا کنبہ خوشحال ہے۔ انکے والد اور چچا بینکاک اور سنگاپور جیسے شہروں میں رہتے اور کام کرتے تھے۔ لیکن انیش سرکاری ملازمت کرنے والا اپنے خاندان کا پہلا رکن تھا۔جب انیل سے پوچھا گیا کہ انھیں اس رشتے کے بارے میں پتہ چلا تو انکا کیا رد عمل تھا۔ انکا کہنا تھا کہ ایک دن انھیں دیپتی نے بلایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو راضی کر لینگی۔

 

انیل کہتے ہیں ‘میں نے کئی بار دیپتی کے گھر والوں سے مل کر اس رشتے کو تسلیم کرنے کی درخواست کی تھی لیکن وہ راضی نہیں ہوئے اس کے برعکس وہ لوگ میرے گھر آئے اور مجھے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ان لوگوں نے 24 جولائی کو میرے بھائی کو کاٹ کر مار ڈالا۔انیل نے حکومت سے اپنے خاندان اور دیپتی کو تحفظ فراہم کرنے ، اس معاملے کےملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور انکے خاندان کے ایک رکن کو مالی مدد اور سرکاری ملازمت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ان کے گھر پر پولیس کی ایک بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے لیکن باقی مطالبات کے بارے میں اٹھائے گئے اقدام کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

واقعہ کے دن کیا ہوا ؟

واقعے کے دن انیش اپنے چچا اور گرام وکاس کے اہلکار دیوی دیال کے ساتھ کسی کام کے لیے باہر گئے تھے۔دونوں گوپال پور بازار میں واقع ہارڈ ویئر شاپ پنکج ٹریڈرز میں کسی کام کے لیے گئے تھے۔ وہاں سے روانہ ہونے کے بعد ہی یہ واردات ہوئی۔اس میں دیوی دیال بھی زخمی ہوگئے تھے۔وہ میڈیکل کالج گورکھپور میں زیر علاج ہیں۔ انکے سینے میں تیز دھار والے ہتھیار کا زخم ہے ایک زخم ہے۔دیوی دیال نے بتایا کہ انیش دکان سے نکلنے کے بعد فون پر بات کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ اسی دوران چہرے پر نقاب پہنے چار افراد نے ان پر دھاری دار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔جب وہ ان کو بچانے کے لیے آگے آئے تو ان پر بھی حملہ ہوا جس کے بعد وہ بیہوش ہو گئے۔ کچھ سیکنڈ کے بعد ہوش میں آنے کے بعد جب وہ کھڑے ہونے لگے تو حملہ آوروں نے ایک بار پھر ان پر وار کیا۔ تب تک کچھ لوگ بھی وہاں جمع ہوگئے تھے۔ یہ دیکھ کر حملہ آور فرار ہوگئے اور اپنا ایک ہتھیار بھی چھوڑ گئے۔‘

ان کے مطابق وہ یہ نہیں دیکھ پائے کہ حملہ آور کسی سمت سے آئے تھے اور وہ کس سمت میں فرار ہوگئے تھے۔

معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیکل کالج میں دیوی دیال کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے لیکن انکے اہل خانہ خوش نہیں ہیں کیونکہ پولیس اہلکار مسلح نہیں ہیں اور دیوی دیال کو دوسرے مریضوں کے ساتھ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دیوی دیال اس معاملے میں واحد چشم دید گواہ ہیں اور انتظامیہ کے اس رویے سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

دیوی دیال کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی پچھتائیں گے کہ وہ اپنے بھتیجے کی جان نہیں بچا سکے۔

گوپال پور بازار میں جہاں انیش کا قتل ہوا تھا جب وہاں ہم نے لوگوں سے واقعے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو کوئی عینی شاہد نہیں ملا اور کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن جہاں انیش کا خون گر ا تھا وہاں اس واقعے کے واردات کے پانچ دن بعد بھی مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔

اس معاملے میں گولا تھانہ پولیس نے انیل چوہدری کی شکایت پر 17 نامزد اور چار نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ آئی پی سی کے سیکشن 302 ، 307 ، 506 اور 120-بی ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے سیکشن 3 (2) (وی) کو بھی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں دیپتی کے والد نِلن مشرا اور بھائی ابھینو مشرا کے علاوہ منی کانت ، ونئے مشرا ، اپیندر ، اجے مشرا ، انوپم مشرا ، پریانکر ، اتولیہ ، پریانشو ، راجیش ، راکیش ، تریوگی نارائن ، سنجیو اور چار نامعلوم افراد کے نام ہیں شامل ہیں۔

اس معاملے کی جانچ گولا تھانے کے پولیس آفیسر (سی او) انجنی کمار پانڈے کررہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ‘چار افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اور دیگر کو جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔انکا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ واردات کرائے کے غنڈوں سے نہیں کروائی گئی ہے بلکہ ایسا ظاہر ہوتا ہے یہ جان پہچان کے لوگوں نے کیا ہے’۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا قتل کی وجوہات میں کوئی دوسرا پہلو سامنے آیا ہے تو انجنی کمار پانڈے نے کہا ‘اب تک کوئی اور وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں مانی کانت مشرا ، دیپتی کے تایا، ویویک تیواری ، ابھیشیک تیواری اور سنی سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔

اس معاملے میں لگائے جانے والے الزامات پر دیپتی کی والدہ جانکی مشرا کا کہنا ہے کہ انکے گھر والوں کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور انکے گھر والوں اور رشتہ داروں کو اس کیس میں زبردستی ملوث کیا جارہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہفتے کے روز انھوں اپنے شوہر کو کھانے کا ٹفن دیا تھا اور وہ اپنی دکان پر چلے گئے تھے لیکن رات بارہ ایک بجے کے بعد انیش کے قتل کی اطلاع ملنے پر انکے شوہر اور دیگر رشتہ دار انڈر گراؤنڈ ہو گئے تھے۔

جانکی مشرا کا کہنا ہے کہ منی کانت مشرا ، جنھیں اس معاملے میں ملزم بنایا گیا تھا وہ پولیس کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔

انکے شوہر بھی گورکھپور گئے ہیں تاکہ وہ پولیس کے سامنے پیش ہوں اور وہ جلد ہی پولیس کے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔

دیپتی کی والدہ بتاتی ہیں کہ دیگر رشتہ داروں کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پولیس کے سامنے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔

دیپتی کی دلت لڑکے سے شادی کے سوال پر ان کی والدہ کا کہنا ہے ‘ایسی لڑکیوں کو تعلیم دینا تو دور کی بات جنم دینا بھی بیکار ہے۔ اس نے میری کوکھ پر کالک پوت دی ہے اور پورے خاندان اور رشتہ داروں کو بدنام اور برباد کردیا ہے۔

اس پورے معاملے میں ذات پات کا سب سے بڑا عنصر نظر آتا ہے۔اس کیس میں فیصلہ آنے سے پہلے معاملہ کو طویل قانونی عمل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

لیکن دیپتی مشرا تمام ملزمان اور اپنے پورے خاندان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ‘ان کا پورا خاندان کسی نہ کسی طرح سے اس معاملے میں ملوث ہے اس لیے ہر ایک کو پھانسی دی جانی چاہیے۔ اس کے لیے وہ ہر سطح پر لڑائی کریں گی’۔

اپنے شوہر کے قتل کے بعد دیپتی انیش کی تصویر اپنے پاس ہی رکھتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ انیش نے جو خاندان چھوڑا ہے وہ اب ان کی ذمہ داری ہے اور وہ ان کی دیکھ بھال کریں گی۔ دیپتی اس وقت حاملہ ہیں۔

دیپتی کا کہنا ہے کہ اگر قانون انیش کے قاتلوں کو سزا نہیں دیتا ہے یا اگر وہ اس میں ناکام ہوجاتا ہے تو وہ خود تمام ملزمان کو سزا دیں گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔