برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ دوم 96 سال کی عمر میں چل بسیں!

442

بکنگھم پیلس نے برطانیہ کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ تک حکمران رہنے والی ملکہ ایلزبتھ دوم کی وفات کا اعلان کیا ہے۔دنیا بھر کے اربوں لوگوں میں فوری طور پر پہچانی جانے والی آئیکون ملکہ کی عمر 96 سال تھی۔ان کے سب سے بڑے بیٹے 73 سالہ چارلس صدیوں کے پروٹوکول کے مطابق فوری طور پر بادشاہ بن گئے ہیں۔بکنگھم پیلس نے جمعرات کو ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ’’ملکہ ایلزبتھ آج سہ پہر بالمورل میں پرامن طور پرانتقال کرگئی ہیں۔بادشاہ اور ان کی شریک حیات ملکہ آج رات بالمورل میں رہیں گےاور کل لندن واپس آئیں گے‘‘۔

آج قبل ازیں شاہی ڈاکٹروں نے ملکہ ایلزبتھ کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے ملکہ کو طبی نگرانی میں رکھنے کی سفارش کی تھی۔برطانیہ کی سب سے طویل عرصے سے خود مختارحکمران اور دنیا کی سب سے عمررسیدہ ملکہ گذشتہ سال کے آخر سے ’’غیردائمی نقل وحرکت کے مسائل‘‘ سے دوچار تھیں۔حکام نے بتایا کہ ان کے بڑے بیٹے اورشاہی تخت کے وارث شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کمیلا اپنے بڑے بیٹے پرنس ولیم کے ساتھ اسکاٹ لینڈ میں واقع بالمورل کیسل پہنچ چکی ہیں جہاں ملکہ گذشتہ کچھ دنوں سے قیام پذیرتھیں۔اس کے دوسرے بچے،شہزادی این، اینڈریو اورایڈورڈ بھی اسی قلعہ میں تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ایلزبتھ نے ایک رات اسپتال میں گزاری تھی اور اس کے بعد سے انھوں نے اپنی عوامی مصروفیات کم کردی تھیں۔بدھ کوانھوں نے اپنے ڈاکٹروں کے آرام کرنے کےمشورے کے بعد سینیر وزرا کے ساتھ ایک ورچوئل ملاقات منسوخ کردی تھی۔ایک روز قبل ہی انھوں نے قدامت پرست پارٹی کی لیز ٹرس کو بالمورل میں ملک کی نئی وزیراعظم مقررکیا تھا۔وہ ان کے ریکارڈ توڑ دور حکومت میں برطانیہ کی پندرھویں وزیراعظم ہیں۔

ایلزبتھ سنہ 1952 میں برطانیہ،کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت ایک درجن سے زیادہ دیگر ممالک کی ملکہ بنی تھیں اور اس جون میں شاہی تخت پر فائز ہوئے ان کا 70 واں سال تھا۔اس موقع پر ان کی تخت نشینی کی خوشی میں چار روزہ قومی تقریبات منائی گئی تھیں۔ملکہ ایلزبتھ 6 فروری 1952 کو اپنے والد شاہ جارج ششم کی موت کے بعد شاہی تخت پرفائز ہوئی تھیں۔اس وقت ان کی عمرصرف 25 سال تھی۔اس سے اگلے سال جون میں انھیں تاج پہنایا گیا تھا۔وہ ایک ایسے وقت میں ملکہ بنی تھیں جب برطانیہ نے اپنی سلطنت کا زیادہ تر حصہ برقرار رکھا تھا۔وہ دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں سے ابھر رہا تھا لیکن اس وقت بہت سے نوآبادیاتی ممالک برطانیہ سے آزاد ہوگئے تھے۔ان کے دورحکومت کے آغاز میں ونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔جوزف اسٹالن سابق سوویت یونین کے رہنما تھے اور کوریا کی جنگ جاری تھی۔