’برطانیہ نے انڈیا کو تہذیب سکھائی‘ امریکی ٹی وی اینکر کے بیان پر غم و غصہ

319

ایک امریکی ٹی وی اینکر انڈیا کے لوگوں کی نتنقید کے نشانے پر ہیں جن کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے انڈیا کو تہذیب سکھائی۔

فاکس نیوز چینل سے تعلق رکھنے والے ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد انڈیا نے فن تعمیر کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ٹکر کارلسن نے ملکہ الزبتھ دوم کے بارے میں ہونے والے ایک شو کے دوران یہ باتیں کہی تھیں جو گزشتہ ہفتے 96 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

ان کے تبصروں کو سیاست دانوں، مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین نے نسل پرستانہ اور جاہلانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ بیان یا تبصرہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملکہ برطانیہ کی موت نے برطانیہ کے نوآبادیاتی ماضی کے بارے میں ایک حساس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہےحالیہ دنوں میں، انڈیا سمیت دنیا بھر کے کئی نامور ادیبوں اور ماہرین تعلیم نے برطانوی بادشاہت پر تنقید کی ہے، جو ان کے بقول، اس سلطنت کے ظلم و بربریت کا حساب لینا باقی ہے۔

کارلسن نے گزشتہ ہفتے اپنے شو میں اس برطانوی سلطنت کے ظلم و بربریت کی دلیل کو رد کرنے کی کوشش کی، اور کہا کہ برطانوی سلطنت کا مطلب ‘نسل کشی سے زیادہ’ ہے۔

انہوں نے ایک کلپ میں کہا کہ ‘مضبوط ممالک کمزور ممالک پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ یہ رجحان آج بھی تبدیل نہیں ہوا ہے’۔

ٹکر کارلسن نے مزید کہا کہ ‘امریکہ کے برعکس، انگریزوں نے اپنی نوآبادیاتی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیا اور دنیا پر مہذب انداز میں حکومت کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں کسی بھی سلطنت میں نہیں ملتی’۔

انہوں نے کہا، ‘جب انگریزوں نے انڈیا کو چھوڑا، تو وہ اپنے پیچھے ایک پوری تہذیب، زبان، ایک قانونی نظام، سکول، چرچ اور عوامی عمارتیں چھوڑ گئے، یہ سب آج بھی استعمال میں ہیں’۔اس کے بعد اینکر نے ممبئی کے وکٹوریہ ٹرمینس سٹیشن کی مثال دے کر اپنے موقف کا دفاع کرنے کی کوشش کی – پیلے پتھروں، گرینائٹ اور نیلے سرمئی سنگِ مر مر کا ایک وسیع و عریض ڈھانچہ جو 1887 میں اس وقت بمبئی شہر میں انگریزوں نے بنایا تھا۔ اور 2016 میں جس کس نام چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس کر دیا گیا۔

’کیا انڈیا نے ایک بھی عمارت اتنی خوبصورت بنائی ہے جتنی کہ بمبئی کا ٹرین سٹیشن جو برطانوی نوآبادکاروں نے تعمیر کی تھی؟ افسوس کی بات ہے کہ ایک بھی نہیں،’۔

ان کے تبصروں نے انڈیا میں بہت سے لوگوں کو ناراض کیا، جن میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس کے ششی تھرور جیسے سینئر سیاستدان بھی شامل ہیں۔

ششی تھرور نے منگل کو دو ناراض ایموجیز کے ساتھ ٹویٹ کیا، ‘میرے خیال میں ٹوئٹر پر کوئی ایسا بٹن ہونا چاہیے جب آپ غصے میں ہیں تو آپ اس بٹن کو دبا دیں۔”

ایک اور صارف کو فاکس کے اینکر کا دعویٰ ‘مضحکہ خیز’ لگا کیونکہ انہوں نے انڈیا میں جو سب سے شاندار عمارتیں دیکھی ہیں وہ "انگریزوں نے نہیں بلکہ خود انڈینز نے بنائی تھیں’۔

ٹینس لیجنڈ مارٹینا ناوراتیلووا نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘مسٹر کارلسن کی ‘تاریخ سے مکمل لاعلمی، کافی حیران کن ہے۔آپ کی نسل پرستی کافی بلندی پر ہے اور اس خاص مسئلے پر آپ کی حماقت اولمپک تناسب کی ہے!!!’ ۔

تاہم، صحافی برکھا دت نے اسے ‘ایک سفید فام شحص کے مشرقیت کے ساتھ غیر ضروری جنون’ کا معاملہ قرار دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘حیرت ہے کہ انڈین میڈیا ایک امریکی اینکر پر کتنا وقت خرچ کرنے کو تیار ہے جب اپنے ملک کے بارے میں آپ کی کسی بھی طرح کی رائے کو نوٹس بھی نہیں کریگا’۔