✍🏻از قلم : نازالنساء بنت رسول خان(عمرکھیڑ ؛ مہاراشٹرا )

قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ جن سے لوگوں نے "ان سے ڈرو” تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ
” ہمارے لیے اللہ کافی ہےاور بہترین کارساز ہے۔”
اس آیت کا اشارہ ان فداکاروں کی طرف ہے جو جنگ احد میں لڑ کر تھکن سے چور تھے ۔۔۔لیکن اگلے ہی دن جنھوں نےرسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پکا ر بر لبیک کہا اور ابو سفیان کے چیلنج کا سامنا کرنے کےلیے حمراء الااسد کے لیے روانہ ہو گۓ ۔( جوکہ مدینہ سے 8 میل دور ہے۔)
یہ تھے وہ سچے مومن جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جاں نثاری کے لیے آمادہ ہو گۓ ۔جنکے جذبہ ایمان کی سطح اور جاں نثاری کے جذبے کی مثال نہیں ملتی جنکی مدد و نصرت کا وعدہ خود اللہ سبحان و تعالی نے کیا اور ستر ہزار فرشتے میدان جنگ ( بدر کے میدان ) میں اتار کر انھیں کثیر تعداد پر فتح دی۔۔

فرقان
.,.معنی ؛ و مقاصد
فرقان سے مراد وہ چیز جسکے ذریعے حق اور باطل کی تمیز کی جاۓ۔
یوم فرقان کا بھی یہی مقصد تھا کہ اللہ رب العزت مومنین اور منافقین کو الگ الگ کرنا چاہتاتھا۔جنگ بدر کا بنیادی مقصد حق کو باطل پر غالب لانا تھا اور مسلمانوں کو کثیر تعداد کی فوج پر غا ئبانہ فرشتوں سے مدددینے میں توکل اللہ اور ایمان کی پختگی کو بڑھانا تھا۔جس سے تا قیامت حق کے غلبہ کی صدا ئیں بلند ہو اور مومنین کے ایمان میں اضافے کا باعث بنے۔

غزؤہ بدر کا تاریخی منظر

غزؤہ بدر کا سبب یہ تھا کہ غزؤہ عشیرہ میں قریش کا قافلہ مکے سے شام جاتے ہوۓ نبی صلی اللہ و علیہ و سلم کی گرفت سے بچ نکلا تھااور یہی قافلہ شام سے پلٹ کر گزرا تو نبی صلی اللہ و علیہ و سلم کو اسکی خبر دو صحابی طلحہ بن عبیدللہ ؓ اور سعد بن زید ؓ نے دی۔
اہل مدینہ کے لیے یہ بڑا زرین موقعہ تھا جبکہ اہل مکہ کےلیے اس مال فراداں سے محرومی بڑی ذبردست فوجی سیاسی اور اقتصادی حیثیت رکھتی تھی اسلۓ رسولﷺ نے مسلمانوں کے اندر اعلان فرمایا کہ قریش کا قافلہ مال و دولت لیے چلا آرہا ہے اسکے لیے نکل پڑو ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بطور غنیمت تمھارے حوالے کردے۔

اس لشکر کی تعداد ۳۱۳ یا ۳۱۴؛ ۳۱۷ افراد پر مشتمل تھی جن میں ۸۲ یا ۸۳ مہاجر تھے اور بقیہ انصار جن میں61 قبیلہ اوس سے تھے اور 170 قبیلہ خزرج سے تھے۔لشکر میں غزؤہ کا کوئ خاص اہتمام نہ تھا نہ ہی مکمل تیاری جن میں دو گھوڑے ستر اونٹ تھے۔
مد مقابل مخالف مکی لشکر کی تعداد ابتداء میں تیرہ سو تھی جن کے پاس ایک سو گھوڑے اور چھ سو زرہیں تھیں ۔اونٹ کثرت سے تھے جنکی ٹھیک ٹھیک تعداد معلوم نہ ہوسکی۔۔لشکر کا سپہ سالار ابوجہل بن ہشام تھا۔

مکی لشکر کی دشمنی بنو بکر قبیلے سے تھی اسلۓ انکو پیچھے سے حملے کا خطرہ محسوس ہوا لیکن عین وقت ابلیس لعین بنو کنانہ کے سردار سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں نمودار ہوا اور بولا "میں بھی تمھارا رفیق کار ہوں اور اس بات کی ضمانت دیتاہوں کہ بنو کنانہ تمھارے پیچھے کوئ ناگوار کام نہ کریں گے۔”

مخالف مضبوط لشکر دیکھتے ہوۓ بھی جاں نثاروں کے جملے یہ تھے کہ خدا کی قسم ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وہ بات نہیں کہے گے جو بنی اسرائیل نے موسی علیہ اسلام سے کہی تھی کہ۔۔۔
"تم اور تمھارا رب جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔” ( سورة مائدہ آیت۲۴)
بلکہ ہم یہ کہیں گے” آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم اور آپ صلی اللہ و علیہ و سلم کے پرودگار چلیں اور لڑیں اور ہم بھی آپ صلی اللہ و علیہ و سلم کے ساتھ ساتھ لڑیں گے ۔اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہم کو برک غماد تک لے چلیں تو راستے والوں سے لڑتے بھڑتے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ وہاں بھی چلیں گے۔”
رسول ﷺ نے انصار کی راۓ معلوم کرنے کے لیے کہا ” اے لوگو !! مجھے مشورہ دو” تو یہ بات سن کر انصار کے کمانڈر سعدؓبن معاذ نے کہا "ہم رسولﷺ پر ایمان لاۓ اور گواہی دی ہے کہ رسولﷺ جو کچھ لے کر آۓ ہیں سب حق ہے۔۔۔
لہذا اللہ کے رسولﷺ کا جو ارادہ ہے پیش قدمی فرمائے اس ذات کی قسم جس نے رسولﷺ کہ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر نبی اکرمﷺ ہمیں لے کر اس سمندر میں کودنا چاہے تو ہم اس میں رسولﷺ کے ساتھ کود پڑے گے۔”

نبی اکرمﷺ میں یہ بات سن کر خوشی کی مہر دوڑ گئ اور نشاط طاری ہوگئ ۔رسول ﷺ نے فرمایا ” چلو اور خوشی خوشی چلو اللہ نے مجھ سے دو گرہوں میں سے ایک وعدہ فرمایا ہے؛۔واللہ اس وقت میں قوم کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں ۔”
اس ایمان کی پختگی پر باران رحمت کا نزول ہوا اللہ عزوجل نے اسی رات ایک بارش نازل فرمائ جو مشرکین پر موسلادھار برستی اور ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ بن گئ لیکن مسلمانوں پر پھوار بن کر برستی اور انھیں پاک کردیا ۔شیطان کی بزدلی دور کردی اور زمین کو ہموار کردیا اسکی وجہ سے ریت میں سختی آگئ اور قدم ٹکنے کے لائق ہوگۓ قیام خوشگوار ہوگیا اور دل مضبوط ہوگۓ۔
بقول شاعر :
کوئ اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہے تقدیریں

"جب اللہ تم پر اپنی طرف سے امن وبے خوفی کی طور پر نیند طاری کررہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسارہا تھا تا کہ تمھیں اسکے ذریعے پاک کردے اور تم سے شیطان کی گندگی دور کردے اور تم سے تمھارے دل مضبوط کردے اور تمھارے قدم جمادے۔”
(سورہ انفال آیت ۱۱ )
یہ رات جمعہ رمضان 17 سن ۲ ۔
کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس مہینے کی ۸ یا ۱۲ تاریخ کو مدینے سے روانہ ہوۓتھے۔

جب دونوں لشکر آمنے سامنے بدر میں آگۓتو رسولﷺ نے فرمایا ” اے اللہ یہ قریش ہیں جو اپنے پورے غرور تکبر کےساتھ تیری مخالفت کرتےہوۓآگۓہیں۔اے اللہ تیری مدد ۔۔۔۔جس کاتونے وعدہ کیا ہے ۔۔اے اللہ آج انھیں اینٹھ کر رکھ دے۔”

دوسری طرف مشرک ابوجہل نے اللہ سے فیصلے کی دعا کی اس نے کہا ” اے اللہ ! ہم میں سے جو فریق قرابت کاذیادہ کاٹنے والا اور غلط حرکتیں ذیادہ کرنے والا ہے اسے تو آج توڑدے ۔
اے اللہ !ہم میں سے جو فریق تیرے نزدیک ذیادہ محبوب اور ذیادہ پسندیدہ ہے کہ آج اس کی مدد فرما۔”
بعد میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائ۔۔۔۔۔

"اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو تمھارے پاس فیصلہ آگیا اور اگر تم باز آجاؤتو یہی تمھارے لیے بہتر ہے لیکن اگر تم ( اپنی اس حرکت کی طرف ) پلٹوگے تو ہم بھی ( تمھاری سزا کی طرف ) پلٹیں گے اور تمھاری جماعت اگر چہ وہ ذیادہ ہی کیوں نہ ہو تمھارے کچھ کام نہ آسکےگی ( اور یاد رکھو کہ) اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔”
مومنین اخلاص کے ساتھ اللہ کے حضور دعا کرتے تھے اور زبان پر احداحد کا کلمہ تھا۔۔۔رسول ﷺ نے دعا کی۔۔۔

” اے اللہ ! تونے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے ۔۔اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا سوال کررہا ہوں۔”

لڑائ شباب پر آئ تو دعا کی کہ ۔۔۔
"اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جاۓگی۔۔اے اللہ !! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جاۓ۔”
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے چادر درست کی اور عرض پردازہوۓ۔” اے اللہ کے رسولﷺ بس فرمائیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے رب سے بڑے الحاج کے ساتھ دعا فرمالی۔”

اللہ نے وحی کی کہ
"میں ایک ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئینگے۔”
پھر رسولﷺ اٹھے اور پر جوش آگے بڑھے اور فرماتے جا رہے تھے۔۔۔
” عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جاۓگا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔”
رسولﷺ نے قتال پر ابھارتے ہوۓ فرمایا ۔۔۔۔
” اس جنت کی طرف اٹھو جسکی پہنائیاں آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہیں ۔”
یہ سن کر عمیر بن حمام نے کہا میں بھی اسی جنت والوں میں سے ہوں گا اور پھر اپنے توشہ دان سے کھجوریں نکال کر کھانے لگے پھر بولے اگر میں اتنی دیر زندہ رہا کہ اپنی یہ کھجوریں کھالوں تو یہ لمبی زندگی ہو جاۓ گی چنانچہ انکے پاس جو کھجوریں تھیں انھیں پھینک دیا پھر مشرکین سے لڑتے لڑتے شہید ہو گۓ۔۔

مشہور خا تون عفراء کے صاحبزادے عوف بن حارث نے دریافت کیا کہ اے اللہ لے رسولﷺ پروردگار اپنے بندے کی کس بات سے خوش ہوکر مسکراتا ہے ۔۔ رسولﷺ نے فرمایا ” اس بات سے کہ بندہ خالی جسم ( بغیر حفاظتی ہتھیار پہنے ) اپنا ہاتھ دشمن کے اندر ڈبو دے۔”
یہ سن کر عوف نے اپنے بدن سے زرہ اتار پھینکی اور تلوار لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگۓ۔

ابن سعد کی روایت میں حضرت عکرمہ ؓ سے مروی ہے کہ "اس دن آدمی کا سر کٹ کر گرتا اور پتہ ہی نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا اور آدمی کا ہاتھ کٹ کر گرتا اور یہ پتہ نہ چلتا کہ اسے کس نے کاٹا۔”
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کررہا تھا کہ اچانک اس مشرک پر کوڑے کی مار پڑنے کی آواز آئ اور شہسوار کی آواز سنائ پڑی جو کہہ رہا تھا ۔۔۔حیزوم ! آگے بڑھ ۔۔۔ رسولﷺ نے فرمایا "یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی۔”
ابو داؤد مازنی کہتے کہ میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے کٹ گیا۔

فضاۓ بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

تر سکتے قطار اندر قطار اب بھی

ابو جہل کے قتل کے بعد رسولﷺ نے تین بار فرمایا ۔۔
"اللہ اکبر ! تمام حمد اللہ کے لیے ہےجس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد فرمائ ا ور تنہا سارے گروہ کو شکست دی۔”
اللہ اکبر !! اللہ اکبر !! اللہ اکبر

بقول مشرق شاعر ڈاکٹر علامہ اقبال رح ۔۔۔
مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی
مری سرشت میں ہے پاکی و درخشانی
تو اے مسافر شب ! خود چراغ بن اپنا
کر اپنی رات کو داغ جگر سے نورانی

پیغام بدر
1) احکام الہی کے پابند ہونا اور اللہ اور رسولﷺ کی پکار پر لبیک کہنا۔
2) منافقین اور مومنین کے اوصاف میں امتیاز ہوتا ہے۔
3) اطاعت اللہ اور اطاعت رسولﷺ کے پابند ہو جانا۔
4) ایمان کی پختگی اور توکل اللہ کرنا۔۔
5)سنگین حالات میں بس اللہ رب العزت کو یقین کےساتھ عاجزی سے پکارنا۔۔۔
6) حق کو ہمیشہ باطل پر غلبہ حاصل ہے ۔اسلام کا غلبہ اور پیغام حق کو ہمیشہ بلند رکھنا۔۔۔

لاکھوں درود و سلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر ۔۔۔
اللہ رب العزت کا احسان و شکر ہے کہ اس نے ایمان کی دولت سے نوازا اور رسولﷺ کے امتی بنا کر بیھجا ۔۔۔اللہ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ کو ایمان کی پختگی قرآن و احادیث کی پیروی عطا کریں اس دور جدید میں پھر مسلمانوں کی ترقی تب ہی ہو سکتی ہے جب ایمان کی سطح بلند ہوگی ۔اللہ کی مدد تب ہی آتی ہے جب ملت کے نوجوان دین کے سپاہی بن جاۓ
۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
_ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
نا چیز جہان مہ پرویں ترے آگے

وہ عالم مجبور ہے تو عالم آذاد

اللہ سبحان و تعالی قوم کو فحاشی سے بچاۓ اور نوجوانان ملت میں دین سے رغبت ؛ الفت محبت پیدا کریں۔ اسلامی طرز پر چلنے کی توفیق دے ۔۔۔
جب امت مسلماں پھر سے قرآن و احادیث کی پیروی کرے گی تب یوسف مصعب اور رابعہ بصری ؛ ام عمارہ جیسے کردار نظر آینگے۔۔۔
حنساءؓ؛اسماءؓ؛ خولہؓ جیسی ماؤں کے اوصاف ملے گے اور پھر محمد بن قاسم رح ؛ طارق بن زیاد رح اور خالد بن ولید ؓ جیسے بیٹے ہونگے۔ اور پھر۔۔۔۔۔۔

ملت نئ قوت سے ابھرے گی

ان شا ء اللہ عزوجل