جن پانچ ریاستوں میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، ان میں آسام کا نام بھی شامل ہے۔ بی جے پی پورا زور لگا رہی ہے کہ آسام میں وہ ایک بار پھر حکومت پر قابض ہو جائے، لیکن اے آئی یو ڈی ایف سربراہ بدرالدین اجمل ہر حال میں بی جے پی کو ریاست سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ بدرالدین اجمل بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ نفرت کی سیاست مزید کی جائے۔ وہ ملک کی تقریباً 3500 مساجد (جنھیں بی جے پی منہدم کرنا چاہتی ہے) کی حفاظت بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

دراصل گزشتہ مہینے بدرالدین اجمل نے اپنے ایک بیان میں مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 2024 میں بی جے پی پھر سے اقتدار میں آئی تو ملک کی 3500 مساجد کو وہ منہدم کر دے گی۔ بدرالدین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بی جے پی نے ابھی سے ملک بھر کی 3500 مساجد کی فہرست بنا لی ہے جسے 2024 کے عام انتخابات میں حکومت بننے کے بعد گرایا جائے گا۔ اس تعلق سے بدرالدین اجمل کا ایک تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ وہ بی جے پی کو آسام میں ہر حال میں شکست دینا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

یہاں قابل غور ہے کہ کانگریس نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر جن پانچ پارٹیوں سے آسام میں اتحاد کیا ہے، ان میں اے آئی یو ڈی ایف بھی شامل ہے۔ بدرالدین اجمل نے کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملا کر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میرا مقصد بی جے پی کو آسام سے باہر کرنا ہے۔ اس کے لیے وہ کانگریس کے ساتھ مل کر لڑائی لڑیں گے۔‘‘ بقول اجمل وہ قربانی دے کر بی جے پی کو ہرائیں گے کیونکہ بی جے پی ایک خاص طبقہ کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیمنت بسوا سرما وزیر اعلیٰ بننے کے لیے تقسیم کی سیاست کر رہے ہیں جو ریاست اور ملک کے لیے نقصاندہ ہے۔