*ان للہ وانا الیہ راجعون*، آر آئی پی۔۔۔ کچھ ایسے ہی میسیجز کا واٹس ایپ اور فیس بک پر سیلاب آیا ہوا ہے۔اخبار بھی کچھ ایسے ہی میسج سے بھرے ہوئے ہیں۔
کسی کو ٹا ئیفائیڈ ہو گیا اور دوسرے ہفتے میں کورونا کی وجہ سے اس کا انتقال ہوگیا ۔

جوان ہو یا ضعیف؛ کوئی وینٹیلیٹر پر ہے تو کسی کو بہت زیادہ آکسیجن لگ رہا ہے تو کوئی بائی پیپ مشین پر۔۔۔۔سٹی سکین کا سکور 20 سے 25 یہ تو عام بات ہو گئی ہے۔۔۔۔کل پرسوں کی بات ہے 35 سے 40 سال کے دو جوان لوگوں کو کورونا کی وجہ سے موت کی آغوش میں جاتے ہوئے دیکھا۔۔۔ایک ستر سالہ ضعیف دادا جان وینٹیلیٹر پر ،اور دادی جان ہوم کورنٹائن ہوگئی ہیں۔اور ان کے تین بچے جو امریکا میں رہتے ہیں لوک ڈاؤن کی وجہ سے نہیں آ سکتے۔ایسے حالات میں مریض کے کون سے رشتہ دار سے بات کریں اور کیا کہیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔

یہ سب دیکھ کر اور سن کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔

*یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟*… ہماری غلطیوں کی وجہ سے, کورونا کے خلاف ہم نے حفاظتی تدابیر نہیں اختیار کی۔ہماری کاہلی کی وجہ سے،پ کو معمولی سمجھنے کی وجہ سے،کورونا کے بخار کو ٹائیفائیڈ سمجھنے کی وجہ سے،اور سردی کھانسی کو معمولی سمجھ کر گھریلو علاج کرنے نے کی وجہ سے ہمیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔

*ابھی بھی وقت ہے آگے دی گئی معلومات کو غور سے پڑھئے اور اپنائے*۔۔۔۔👇🏻

۱_*بخار کو ٹائیفائیڈ مت سمجھنا* ۔۔۔۔ٹائیفائیڈ کی ٹیسٹ مت کیجئے۔

۲_فی الحال سردی کھانسی بخار بدن درد یہ سب کو رونا کی علامتیں ہیں اس لئے کو رونا کی جانچ جلد از جلد کروا لیں۔

۳ *_بیماری کو معمولی نہ سمجھی* ۔۔۔پہلے ہفتے میں کورونا کی علامتیں کم ہوتی ہیں اور جلد علاج کرانے پر ٹھیک بھی ہو جاتی ہیں۔۔دوسرے ہفتے میں پھیپھڑوں پر اثر ہو کر آپ کی تکلیف بڑھ سکتی ہے۔اس لیے پلس اکسی میٹر سے اپنا *آکسیجن لیول چیک کرتے رہیے ۔ ۹۴ فیصد سے کم رہنے پر ہاسپیٹل میں شریک کرنا ضروری ہے*۔۔۔ہائی بلڈ پریشر ڈائبیٹک اور ضعیف مریضوں کی زیادہ دیکھ بھال کرنا ضروری ہے۔۔۔

۴_سٹی سکین کی رپورٹ پہلے پانچ دنوں میں نارمل آتی ہے۔
دوسرے ہفتے میں آپ کی علامتوں کی بنا پر ڈاکٹر کے مشورے سے سٹی سکین کریں۔۔
خود سے سٹی سکین کروانے کی زبردستی نہ کریں اور سٹی سکین سنٹر پر بھیڑ جمع نہ ہونے دیں ۔۔

۵_دی گئی سرکاری معلومات کی بنا پر موقع آنے پر کورونا کا ٹیکا ضرور لگوائیں *۔۔ٹیکہ لگوانے سے کرونا نہیں ہوتا*۔لیکن ٹیکا کیندر پر بھیڑ جمع ہونے نہ دیں دی اور ماسک ضرور لگا کر جائیں۔اور ماس نکال کر سیلفی بھی نہ لیں۔۔

اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں سوچئے۔یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے۔۔ہماری ان تدابیر اور پابندیوں کی وجہ سے آگے اچھے دن آئیں گے۔۔

آپ کی خدمت میں۔۔
*ڈاکٹر چندرکانت ٹرکے،اپولو ہاسپٹل حیدرآباد۔۔*

ترجمان۔۔
*ڈاکٹر آفرین فاطمہ۔راحت آنکھوں کا دواخانہ ۔ناندیڑ*