بجرنگ دل کارکن کے قتل کے بعد جھارکھنڈ میں کشیدگی،، دو گروپس میں تصادم

395

چکرادھرپور(جھارکھنڈ):13نومبر: جھارکھنڈ کے ضلع مغربی سنگھبوم کے چکرادھرپور ٹاؤن میں اتوار کے دن ضابطہ فوجداری(سی آرپی سی) کی دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کردئیے گئے۔ایک دن قبل یہاں ایک بجرنگ دل کارکن کو ہلاک کیاگیاتھا۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے یہ بات بتائی۔

سب ڈیویژنل پولیس آفیسرچکرادھرپور کپل چودھری نے بتایاکہ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں۔امتناعی احکامات بطور احتیاط نافذ کئے گئے۔ 35 سالہ بجرنگ دل کارکن کمل دیوگری کو ہفتہ کی شام بھرت بھون چوک کے قریب نامعلوم موٹرسیکل سوار شرپسندوں نے مبینہ طور پر خام بم پھینک کرمارڈالا۔ بھرت بھون چوک‘ چکرادھرپور کا اہم چوراہا ہے۔

اس قتل کے بعد ٹاؤن میں کشیدگی پھیل گئی۔ مصروف بھرت بھون چوک کی زیادہ تر دکانیں اور بازار بند ہوگئے۔ بجرنگ دل حامیوں نے چکرادھرپور۔رانچی سڑک تقریباً3 گھنٹے جام کردی۔ پولیس کی مداخلت اور انصاف کے تیقن کے بعد انہوں نے اپنا راستہ روکو احتجاج ختم کیا۔

کپل چودھری نے کہا کہ نظم وضبط کی برقراری کے لئے ٹاؤن کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی فورسس بشمول ریاپڈ ایکشن فورس (آراے ایف) کو تعینات کردیاگیا۔اسی دوران بجرنگ دل کارکن کی نعش کو اس کے حامی جب آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لے جارہے تھے‘دو گروپس میں جھڑپیں ہوگئیں۔پولیس کو ہلکی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ ڈپٹی کشمنراننیا متل نے بتایاکہ آج دوپہر نعش جیسے ہی پون چوک پہنچی‘ دوگروپس نے ایک دوسرے پر سنگباری کی اور گالیاں دیں۔ پولیس کو آنسوگیس استعمال کرنا پڑا۔اسے صورتحال پر قابوپانے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔ بعدازاں نعش شمشان گھاٹ لے جائی گئی جہاں آخری رسومات اداکی گئیں۔ اننتامتل اور سپرنٹنڈنٹ پولیس آشوتوش شیکھرفی الحال چکرادھرپور میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے بموجب 6دکانوں اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔