نئی دہلی۔ یکم؍اپریل: بہار کے قد آورمسلم لیڈر، قوم کے مخلص ، انسانیت کے علم بردار، علما نواز،پندرہ سالوں سے جیل میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے معروف لیڈر اور آر جے ڈی کے سابق رکن پارلیمنٹ سید شہاب الدین کی کورونا کی وجہ سے موت ہو گئی۔ انا للہ وانا والیہ راجعون۔ سنیچر کی صبح دہلی کے دین دیال اپادھیائے اسپتال میں انہوں نے آخری سانس لی۔تہاڑ جیل کے ڈی جی سندیپ گوئل نے شہاب الدین کی موت کی تصدیق کی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ شہاب الدین کو کورونا سے متاثر ہونے کے بعد دین دیال اپادھیائے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے آج آخری سانس لی ۔ گذشتہ ایک ہفتے سے کورونا کی وجہ سے ان کا دین دیال اپادھیائے اسپتال میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ یہاں کل شام سے ہی ان کی حالت نازک بنی ہوئی تھی اور ہفتے کی صبح ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔سید شہاب الدین دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ یہاں ایک ہفتہ پہلے کورونا کے انفیکشن کی وجہ سے انہیں اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا۔بتا دیں کہ گذشتہ ایک ہفتے میں تہاڑ جیل کے پانچ قیدیوں موت ہو چکی ہے۔

اس سے قبل سیوان کے سابق رکن پارلیمنٹ شہاب الدین کے ایک رشتے دار نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔انہوں نے ہسپتال پر غفلت برتنے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جب دہلی ہائی کورٹ نے ایمس میں علاج کرنے اور دن بھر میں دو مرتبہ رشتے داروں کو بات کروانے یا دکھانے کی ہدایت دی تھی لیکن اس کے باوجود ہسپتال نے ایمس میں ٹرانسفر کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔اطلاعات کے مطابق شہاب الدین کے رشتے دار ان کے جسد خاکی کو سیوان لانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن رشتے داروں کے مطابق اجازت ملنا ممکن نہیں لگتا ہے۔ ایسی صورتحال میں دلی قبرستان میں ان کی تدفین کی جاسکتی ہے۔شہاب الدین کے رشتے دار کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے کنبہ کے افراد کو صبح ساڑھے نو بجے طلب کیا تھا۔ جب شہاب الدین کو دیکھنے کے لیے اجازت مانگی گئی تو کنبہ کے افراد کو روکا گیا۔

سابق رکن پارلیمنٹ کا بیٹا اسامہ اپنے خالہ زاد بھائیوں کے ساتھ دہلی میں موجود ہے۔ شہاب الدین کی اہلیہ حنا شہاب بھی دہلی میں ہی ہیں۔شہاب الدین کی اہلیہ نے اس سے قبل الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہسپتال کے رویہ سے لگتا ہے کہ موت پہلے ہی ہوچکی ہے۔ صرف اپنی تساہلی کو چھپانے کے لیے ڈراما کیا جا رہا ہے یا پھر کسی کے اشارے پر کام ہورہا ہے۔پارٹی لیڈر تیجسوی یادو نے شہاب الدین کی موت پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے ٹویٹ کر کے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ’ سابق رکن پارلیمنٹ محمد شہاب الدین کی کورونا انفیکشن کی وجہ سے بے وقت موت کی خبر افسوسناک ہے ۔ خدا ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ، سوگوار کنبے اور بہی خواہوں کو قوت برداشت عطا کرے۔ ان کی موت پارٹی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے ‘ ۔دکھ کی اس گھڑی میں آر جے ڈی کنبہ پسماندگان کے ساتھ ہے ۔واضح رہے کہ چند دنوں قبل شہاب الدین کی تہاڑ جیل میں کورونا جانچ کی گئی تھی۔ ان کی جانچ رپورٹ ۲۱؍اپریل کو مثبت آئی تھی۔

شہاب الدین ۱۰؍مئی ۱۹۶۷کو بہار کے سیوان ضلع کے پرتاپور گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بہار میں تعلیم حاصل کی اور ماسٹر آف آرٹس اور پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔سنہ ۱۹۹۰کی دہائی میں شہاب الدین لالو پرساد یادو کی قیادت میں جنتا دل یوتھ ونگ میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے ۱۹۹۰اور ۱۹۹۵کے بہار اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔سنہ ۱۹۹۶میںجے ڈی کے ٹکٹ پر لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے، جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔کہا جاتا ہے کہ سنہ ۱۹۹۷میں راشٹریہ جنتا دل کی تشکیل کے بعد اور بہار میں لالو پرساد کی حکومت آنے کے بعد شہاب الدین کے قد میں اور اضافہ ہوا۔محمد شہاب الدین ۱۹۹۶سے ۲۰۰۴کے درمیان سیوان حلقہ سے رکن پارلیمان کے لئے مسلسل چار دفعہ منتخب ہوئے تھے۔ریکارڈ کے مطابق شہاب الدین پر ۱۹۹۶میں پہلی بار سیوان کے حسین گنج پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان پر ۵۰سے زائد مقدمات درج تھے۔ سابق رکن پارلیمان کو چھ سے زیادہ مقدمات میں سزا بھی سنائی گئی تھی۔

بشکریہ ممبئی اردو نیوز