ضلع انتظامیہ کی کارروائی پر احتجاج ، مشتعل ہجوم اور پولیس میں جھڑپ 6 گرفتار

بارہ بنکی : اترپردیش میں یوگی حکومت کی جانب سے مسلمانوں، مساجد اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدالتوں کے سہارے اب تک کئی ایسے اقدامات کئے گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوگی حکومت ، مخالف مسلم پالیسی پر عمل کررہی ہے۔ حال ہی میں الہ آباد ہائیکورٹ کی جانب سے غیرقانونی مذہبی مقامات کو ہٹادینے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم کے بہانے یوگی حکومت اور ضلع نظم و نسق نے کئی مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ اسی ضمن میں بارہ بنکی کی رام سیناہی گھاٹ تحصیل کامپلیکس میں واقع مسجد میں بھی مصلیوں کو داخل ہونے نہیں دیا گیا اور نماز پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ ضلع انتظامیہ نے مسجد کے اطراف آہنی سلاخوں کی باڑھ لگاتے ہوئے راستہ روک دیا ہے۔ مسجد میں داخلے پر پابندی عائد کردی اور نماز کی ادائیگی سے بھی روک دیا۔ اس سے ناراض ہجوم نے احتجاج کیا اور مشتعل ہوکر ہنگامہ آرائی کی۔ ناراض ہجوم اور پولیس ملازمین کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجیوں کو وہاں سے منتشر کردیا۔ پولیس نے سنگباری اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں 6 افراد کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے سڑکوں پر موجود مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کررہی ہے لیکن رام سیناہی گھاٹ تحصیل کامپلیکس میں واقع مسجد نہ تو سڑک پر تعمیر کی گئی ہے اور نہ ہی اسے ہٹانے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے۔ وہیں تحصیل انتظامیہ نے مسجد کا راستہ بند کردینے سے قبل جو نوٹس چسپاں کی ہے، اس میں مسجد سے متصل رہائش اور بیت الخلاء کو بھی غیرقانونی قرار دیا ہے۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے اسی مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور اس کا برقی کنکشن بھی ہے۔ یہ عمارت سنی وقف بورڈ میں رجسٹر بھی ہے، تاہم یوگی انتظامیہ کچھ سننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ نوٹس وصول ہونے کے بعد سنی وقف بورڈ کا رجسٹریشن، برقی کنکشن اور دیگر ثبوت پولیس کے حوالے کئے گئے لیکن پولیس نے ان ثبوتوں کو قبول نہیں کیا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں