باجرے کی روٹی کھانے والے کتے میں ایسا کیا ہے کہ اسے مودی کے حفاظتی دستے میں شامل کیا جا رہا ہے؟

778

عمران قریشی بی بی سی ہندی کے لیے بنگلور سے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حفاظت پر مامور سپیشل پروٹیکشن گروپ نے مُدھول ہاؤنڈ کتوں کی دیسی نسل کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان بے انتہا چست کتوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ’جو یا باجرے کی روٹی کے ایک ٹکڑے‘ پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع میں واقع کینائن ریسرچ انفارمیشن سینٹر (CRIC) میں رہنے والے یہ کتے عام انڈین گھروں میں ملنے والا کھانا کھاتے ہیں۔

ان کا کام صرف آدھا کلو مکئی، گندم، ارہر کی دال سے چل جاتا ہے جو انھیں دن میں دو بار دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ روزانہ دو انڈے اور آدھا کلو دودھ بھی دیا جاتا ہے۔بہت سے پرائیویٹ بریڈر (کتے کی نسل تیار کرنے والے) انھیں ہر ہفتے کچھ چکن بھی کھانے کے لیے دیتے ہیں.

خصوصیات کیا ہیں؟
مُدھول کتوں کا سر، گردن اور سینہ گہرا ہوتا ہے۔ ٹانگیں سیدھی اور پیٹ پتلا ہوتا ہے۔ کان نیچے کی طرف مڑا ہوتا ہے۔

گریٹ ڈین نسل کے کتوں کے بعد مقامی نسلوں میں سب سے لمبا کتا ہے۔ اس کی اونچائی 72 سینٹی میٹر اور وزن 20 سے 22 کلو گرام ہوتا ہے۔ پلک جھپکتے ہی مُدھول کتے ایک کلومیٹر تک فراٹے سے دوڑ سکتے ہیں۔ ان کتوں کا جسم کسی کھلاڑی جیسا ہوتا ہے اور شکار میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ماہرین کے مطابق مُدھول نسل کے کتوں کی کچھ خصوصیات چونکا دینے والی ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی آنکھیں 240 ڈگری سے 270 ڈگری تک گھوم سکتی ہیں۔ تاہم ان میں کچھ دیسی نسل کے کتوں کے مقابلے میں سونگھنے کا احساس کم ہوتا ہے۔ انھیں سردی کے موسم سے مطابقت رکھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ کرناٹک کے ضلعے بیدر میں قائم ویٹنری اینیمل اینڈ فشریز سائنسز یونیورسٹی کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر بی وی شیو پرکاش کہتے ہیں: ’مُدھول نسل کے کتوں کو برانڈڈ کھانا نہیں چاہیے۔ سی آر آئی سی میں ان کتوں کو جو کچھ بھی کھانا دیا جاتا ہے اس پر وہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ اگر مالک چاہے تو اس کے کھانے میں چکن شامل کر سکتا ہے۔ یہ جو کی روٹی کھانے کے بعد بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔‘

سی آر آئی سی کے سربراہ اور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر سوشانت ہانڈگے نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ‘آپ اس کتے کو باندھ کر نہیں رکھ سکتے۔ وہ آزادانہ گھومنا پسند کرتا ہے۔ صبح و شام ایک گھنٹہ گھوم کر وہ اپنا کام بہت مستعدی سے کر سکتا ہے۔ یہ ایک شخص سے منسلک رہنے والا کتا ہے۔ یہ زیادہ لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتا۔ عام طور پر ان کتوں کو نگرانی کے کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

سنہ 2018 میں شمالی کرناٹک میں منعقدہ ایک ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کتوں کی دیسی نسل کی تعریف کی تھی۔ اس کے بعد کئی سیکیورٹی ایجنسیوں نے سی آر آئی سی سے کتے کے بچے حاصل کیے اور انھیں تربیت دینا شروع کیا۔

ایس ایس بی راجستھان نے سنہ 2018 میں یہاں سے دو کتے لیے۔ اسی دوران مرکزی ریزرو پولیس فورس سی آر پی ایف بنگلور نے دو کتے کے بچے لیے۔ سی آئی ایس ایف ہری کوٹا نے ایک (2019)، بی ایس ایف ٹیکن پور نے چار (2020)، محکمہ جنگلات باندی پور نے دو (2020) اور انڈین فضائیہ کی آگرہ یونٹ نے (2021,2022) سات کتے کے بچے لیے۔ جبکہ اس سے قبل ریموٹ ویٹنری کور یا آر وی سی میرٹھ نے سنہ 2015 میں چھ کتے لیے تھے۔

یہ کتے کہاں سے آتے ہیں؟
مُدھول کتوں پر سب سے پہلے راجہ مالوجی راؤ گھوڑپڑے (1884-1937) کے دور میں توجہ دی گئی۔ قبائلی ان کتوں کو شکار کے لیے استعمال کرتے تھے۔ مالوجی راؤ کی توجہ اس طرف ہو گئی۔ بادشاہ نے برطانیہ کے دورے کے دوران کنگ جارج پنجم کو کچھ مُدھول کتے بھی تحفے میں دیے تھے۔

سوشانت ہانڈگے کہتے ہیں: ’کہا جاتا ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی فوج بھی مُدھول کتوں کا استعمال کرتی تھی۔‘

ڈاکٹر شیو پرکاش نے کہا: ’عام طور پر یہ کتے صرف مُدھول تعلقہ میں ہی پائے جاتے ہیں۔ اب انھیں سی آر آئی سی سے پرائیویٹ بریڈرز لے جاتے ہیں۔ اب اس نسل کے کتوں کی افزائش مہاراشٹر، تلنگانہ اور دیگر ریاستوں میں بھی ہو رہی ہے۔‘

پچھلے سال نیشنل بیورو آف اینیمل جینیٹکس ریسورسز (این بی اے جی آر)، کرنال نے مُدھول نسل کے کتے کو دیسی کتے کے طور پر تسلیم کیا اور اس کی تصدیق کی۔ اس سرٹیفیکیشن کے بعد بہت سے پرائیوٹ بریڈرز نے ان کتوں کو مُدھول اور باگل کوٹ کے آس پاس کی مختلف ریاستوں کے رہائشیوں کو فروخت کرنا شروع کر دیا۔مُدھول تعلقہ کے لوکاپور وینکپپا ناوالگی نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’ان کے پاس 18 کتے ہیں۔ ان میں سے 12 مادہ اور چھ نر ہیں۔ ہم سال میں ایک بار ان کی افزائش کرتے ہیں۔ مادہ ایک سال میں دو سے چار اور یہاں تک کہ دس سے چودہ بچوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ کچھ لوگ کتے کو انجیکشن نہیں لگواتے یا انھیں رجسٹر تک نہیں کرتے ہیں۔ یہ ایک وقت طلب عمل ہے۔ اس لیے وہ ایک کتے کو 12 ہزار روپے میں بیچتے ہیں۔ لیکن جو لوگ کتے کو انجکشن لگا کر سرٹیفیکیشن حاصل کرتے ہیں، وہ اسے 13 سے 14 ہزار روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ ان کتوں کی زندگی عام طور پر 16 سال تک ہوتی تھی۔ لیکن اب یہ 13-14 سال رہ گئی ہے۔‘

بنگلور سے تعلق رکھنے والی رشمی ماونکروے نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’ہمارے یہاں ایک مُدھول کتا ہے۔ وہ بہت پیار کرنے والا ہے اور میری تین سالہ بیٹی کے ساتھ بہت اچھی طرح سے رہتا ہے۔ وہ اتنا ملنسار ہے کہ بچے انھیں ٹیڈی بیئر سمجھنے لگتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ کافی تیز مزاج ہوتے ہیں لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ان کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں۔ یہ بالکل جارحانہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک وقت میں ایسے سات کتے ہوا کرتے تھے۔‘وہ اپنے ایک مُدھول کتے مرفی کے بارے میں کہتی ہیں: ’اسے مہینے میں ایک بار نہلایا جاتا ہے۔ پھر بھی، اس کے جسم سے دوسرے کتوں جیسی بو نہیں آتی۔ ہم ہفتے میں ایک بار اس کی گرومنگ کرتے ہیں۔ اس کا کھانا بھی آسان ہے۔ ہم اسے ڈھائی سو گرام راگی گنجی اور دہی کے ساتھ روزانہ کھانا دیتے۔ان میں انڈا اور تقریباً 100 گرام چکن بھی ہوتا ہے۔ان کو ہفتے میں 100 گرام چاول دیا جاتا ہے۔ہم سال میں ایک بار ویکسین لگواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرنا بہت آسان ہے۔‘

نیوزی لینڈ میں تربیت یافتہ ایک سرٹیفائیڈ کینائن بیہیویئر کے ماہر امرت ہیرانیا نے بی بی سی کو بتایا: ’مدھول ہاؤنڈ (کتے) یا گرے ہاؤنڈز کو عام طور پر شکاری کتا سمجھا جاتا ہے۔ اگر انھیں انڈیا کی پیادہ فوج میں حملہ کرنے اور خطرے کی نشاندہی کے بعد واپسی کے مقصد سے لے جایا جا رہا ہے تو وہ بالکل موزوں ہیں۔ دنیا میں صرف مُدھول نسل کے کتوں کی آنکھیں 240 سے 270 ڈگری پر گھوم سکتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کتے بہت تیزی سے دوڑ سکتے ہیں۔ وہ دوڑتے ہوئے لمبی چھلانگ لگا سکتے ہیں کیونکہ ان کا جسم بہت پتلا ہے۔ یہ پیادہ گشت کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ گھنے اندھیرے میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی سماعت کی صلاحیت انسانوں کی سماعت یا آلۂ سماعت کی صلاحیت سے زیادہ ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’لیکن اگر انھیں دھماکہ خیز مواد کی دریافت، منشیات یا چوری جیسے جرائم کی تحقیقات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو وہ اتنے موثر نہیں ہوں گے کیونکہ مُدھول کتوں کی بو سونگھنے کی صلاحیت لیبراڈور، جرمن شیفرڈ یا بیلجیئن میلینوس سے کم ہوتی ہے۔‘

ہیرانیا کا کہنا ہے کہ دیسی نسل کے کتے جیسے کومبائی یا چپپاراری مُدھول سے زیادہ سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی نظر اتنی اچھی نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا ہے ’مدھول کی یہ واحد خوبی نہیں ہے۔ اس کی جلد ایسی ہے کہ یہ خشک موسم میں بھی اچھی طرح برقرار رہتی ہے۔‘ہیرانیا کہتے ہیں کہ ان کی جلد مہاراشٹرا اور شمالی کرناٹک کے موسم کے لیے موزوں ہے۔ موسم میں ہلکی سی تبدیلی سے ان کے جسم میں خارش یا فنگس ہو سکتے ہیں۔ جب آپ دس سے تیس فیصد بہتر کارکردگی کے ساتھ ایسے کتوں کو پرائیوٹ طور پر پال سکتے ہیں تو پھر عوام کے پیسے سے ان کتوں کا استعمال کیوں نہ کیا جائے۔

وہ کہتے ہیں: ‘پوری دنیا میں لوگ جرمن شیفرڈ یا بیلجیئم میلینوئس کو اپنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک، بیلجیئم میلینوئس کسی بھی موسم کو برداشت کر سکتا ہے۔ اور یہ جرمن شیفرڈ سے چھوٹا ہے۔‘

ہیرانیا کا کہنا ہے کہ ’آپ کو یاد ہوگا کہ بیلجیئم میلینوئس نے ہی سونگھ کر اسامہ بن لادن کا سراغ لگایا تھا۔ دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگانے میں ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے مُدھول کو اس طرح کے کام میں شامل کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’پچھلے سات آٹھ سالوں میں، بیلجیئن میلینیوئس نے سونگھ کر 5000 کلوگرام سے زیادہ منشیات کا پتا چلایا ہوگا۔ ان کتوں کو بنگلور کے قریب سی آر پی ایف کے ٹریننگ سینٹر کے ڈاگ بریڈنگ سینٹر میں تربیت دی گئی تھی۔‘