بابری مسجد یومِ شہادت: اب ہمیں یوم سیاہ نہیں منانا اور نہ احتجاج کرناہے: اقبال انصاری

13

ایودھیا: بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 میں شہید کیا گیا تھا اور اب اس واقعہ کو 30 سال پورے ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کے مدعی رہے اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ عدالت سے فیصلہ آ جانے کے بعد اب یہ کوئی مسئلہ نہیں رہ گیا ہے، ہمیں اب یومِ سیاہ نہیں منانا ہے اور نا ہی احتجاج کرنا ہے۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کے دوران اقبال انصاری نے کہا کہ الیکشن کے دوران یہ مدعا جان بوجھ کر اچھالا جاتا ہے۔

اقبال انصاری نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سنی وقف بورڈ کو نئی مسجد تعمیر کے لئے اراضی دستیاب کرا دی گئی ہے۔ اب لوگوں کو مندر مسجد چھوڑ کر ترقی پر توجہ دینی چاہئے۔ سیاسی لوگ بھی ترقی کی بات کریں تو بہتر ہوگا۔ عدالت سے جو بھی فیصلہ آیا ہے ہم اس پر مطمئن ہیں اور اب اس معاملہ کو آگے کھینچنا نہیں چاہتے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اب 6 دسمبر کو یوم سیاہ منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو بابری مسجد پر فیصلہ سنایا اور پورے ملک میں امن و امان برقرار رہا۔

ہم یہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی جانب سے اب کوئی یوم سیاہ نہ منایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں ترقی کی بہت کمی تھی، آج بھی ہے، لہذا اب صرف روزگار اور ترقی کی بات ہونی چاہئے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، جو کہ یہ اب سب بند ہونا چاہئے۔خیال رہے کہ اقبال انصاری مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے ہیں جنہوں نے 1949 سے 2016 تک مسجد کی طرف سے پیروی کی تھی۔ والد کے انتقال کے بعد اقبال انصاری نے بطور پیروکار بابری مسجد کے مقدمہ کو آگے بڑھایا۔