بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ کی اہم ہدایت

0 10

نئی دہلی:26فروری(ورق تازہ نیوز)آج بابری مسجد ملکیت معاملہ کی سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ وہ چھ ہفتوں کے اندر حکومت اتر پردیش کی جانب سے کرائے گئے دستاویزات کے تراجم کا مطالعہ کریں اور اس تعلق سے عدالت کو مطلع کریں تاکہ حتمی بحث شروع کی جاسکے نیز عدالت نے فریقین کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ مصالحت کے تعلق سے غور کریں عدالت نے کہا کہ اگر سمجھوتے اور مصالحت کی ایک فیصدگنجائش بھی موجودہوتو اس کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ عدالت نے اپنے حکمنامہ میں مزید کہا کہ وہ6 مارچ کو عدالت کی نگرانی میں مصالحت کیئے جانے کے تعلق سے فیصلہ صادر کریگی۔واضح ہوکہ عدالت نے ترجموں کے مطالعہ کے لئے فریقین کو چھ ہفتوں کا وقت دیا ہے اور اب مقدمہ کی باقاعدہ سماعت آٹھ ہفتہ بعد ہوگی ، وکلاءاور فریقین کے نمائندوں سے کھچا کھچ بھری عدالت میں جیسے ہی جمعیةعلماءہند کے لیڈ میٹر سول پٹیشن نمبر 10866-10867/201 (محمد صدیق جنرل سیکریٹری جمعیة علماءاتر پردیش)پرسماعت شروع ہوئی چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی پانچ رکنی بینچ جس میں جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائے چندر چوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں نے سب سے پہلے فریقین کے وکلاءکو سیکریٹری جنرل آف سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے تیار کی گئی مقدمہ کی رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ اگر فریقین حکومت اتر پردیش کی جانب سے کرائے گئے تراجم سے متفق اور مطمئن ہیں تو عدالت معاملے کی سماعت شروع کرنے کے لئے تیار ہے، چیف جسٹس رنجن گگوئی نے یہ بھی کہا کہ جب تمام فریقین دستادیزات کے درست ترجمہ کو کو لیکر مطمئن ہوجائیںگے تو ہم سماعت کاآغاز کرسکتے ہیں اور ایک بار جب سماعت شروع ہوگی تو ہم نہیں چاہیںگے کہ بعد میں کوئی بھی فریق ترجمہ میں خامی کاحوالہ دیکر سماعت ٹالنے کامطالبہ کرے ۔اس پر رام للا کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سی ایس ویدیاناتھن نے عدالت سے کہا کہ دستاویزات کامطالعہ کرنے کے لیئے دیا گیا وقت کب کا ختم ہوچکا ہے ، لہذا اب مزید وقت نہیں دیا جانا چائے ۔اس کے جواب میں جمعیة علماءہند کی نمائندگی کرتے ہو ئے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک حکومت اتر پردیش کی جانب سے ترجمہ کرائے گئے دستاویزات کا مطالعہ نہیں کیا ہے جس پر رام للا کے وکیل نے اعتراض کیا اور عدالت سے شکایت کی کہ یہ مقدمہ کی سماعت ٹالنے کی ایک کوشش ہے کیونکہ 5 دسمبر 2017ءکے سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق تراجم مکمل ہوچکے ہیں۔ دیگر ہندو فریقین کے وکلاءنے بھی عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں موجود ایڈوکیٹ آن ریکارڈ نے پہلے ہی تراجم کا مطالعہ کرلیاہے لہذا آج یہ کہنا کہ انہیں مزید وقت چاہئے مقدمہ کی سماعت کو طول دینے کے مترادف ہے ۔ اس پر ڈاکٹر راجیو دھون نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے دلیل دی کہ اس بینچ میں موجود دو ججوں(جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر) کے علم میں ہے کہ میں اس معاملے میں بحث کرنےکے کے لئے ہی آیا تھا اور آج بھی تیار ہوںلیکن یو پی حکومت کی جانب سے ترجمہ کرائے گئے دستاویزات کا مطالعہ کیئے بغیر میرے لیئے بحث کرنا ممکن نہیںہوگا ،لہذا مجھ پر الزام عائد کرنا کہ میں بحث کے لیئے تیار نہیں ہوں غلط ہے ۔فریقین کی بحث کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرنا چاہتے جب تک کہ فریقین کے وکلاءسماعت کے لیئے تیار نہ ہوں ۔دوران بحث جسٹس ایس اے بوبڑے نے کہا کہ اگر فریقین کے درمیان اس معاملے کولیکر مصالحت کی ایک فیصد بھی امید ہے تو انہیں یہ چانس لینا چاہئے اور سپریم کورٹ اس کے لیئے تیار ہے جس پر ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ اگر عدالت اس کے لیئے تیار ہے تو مجھے اعتراض نہیں ہے لیکن رام للا کے وکیل ویدیاناتھن نے اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اس سے قبل کوشش کی جاچکی ہے، لیکن اس کاکوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ فریق مخالف کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ رنجیت کمار نے عدالت سے کہا کہ انہیں مصالحت منظور نہیں ہے اس لئے عدالت جلد از جلد معاملے کی حتمی بحث کی تاریخ مقرر کرے۔اسی درمیان بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مصالحت انہیں منظور ہے لیکن یہ اس شر ط پر کہ ہندﺅں کو رام کے جنم استھان پر پوجا کرنے کی اجازت ہوگی اور ہندﺅں پر کم سے کم شرائط ہوںگی۔مگر مخالف فریقین کے وکلاءکی دلیلوں سے عدالت مطمئن نہیں ہوئی اور اب مصالحت کے تعلق سے وہ آئندہ 5مارچ کو اپنا فیصلہ دیگی۔آج کی عدالتی پیش رفت پر اپنے اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ یہ پیش رفت امید افزاہے اورہم عدالت کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں ، جمعیةعلماءہند ابتداہی سے صلح اور امن کی حامی رہی ہے اور اس معاملہ میں باہمی مذاکرات کو اولیت دیتی آئی ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اس معاملہ میں جب بھی صلح کی کسی کوشش کاآغاز ہوا تو مخالف فریقین نے اپنے اڑیل رویہ سے اس کوشش کو ہمیشہ سبوتاژکیا ہے اور آج بھی عدالت میں ان کے وکلاءنے کچھ اسی قسم کے رویہ کا اظہارکیا ہے ، ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں ،اس لئے اگر عدالت اپنی نگرانی میںمصالحت کی کوئی نئی کوشش کرتی ہے تو ہم اس کے لئے تیارہیں ، اس لئے کہ ہم ہمیشہ سے اس اہم مسئلہ کا پرامن طورپر حل چاہتے ہیں ، مولانا مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ مصالحت کی کوشش کے دوران بھی قانونی عمل جاری رہے گا ،بلاشبہ یہ ایک اچھی بات ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ہندواورمسلم کا تنازعہ ہرگزنہیں ہے بلکہ ملکیت کے حق کی لڑائی ہے مگرافسوس اس پر مسلسل سیاست کرکے کچھ لوگوں نے اسے ہندواور مسلمان کاجھگڑابنادیا ہے ، جمعیةعلماءہند نے تو روزاول سے ہی اپنا یہ موقف واضح کردیا ہے کہ قانون اور شواہد کی بنیادپر عدالت جو بھی فیصلہ دیگی ہم اسے قبول کریںگے ، لیکن مخالف فریقین کی سوچ اس کے قطعی برعکس ہے یہاں تک کچھ لوگوں کے ذریعہ ڈراور دھونس کی سیاست سے یہ باورکرانے کی کوشش بھی ہورہی ہے کہ برعکس فیصلہ آنے کی صورت میں وہ اسے قبول نہیں کریںگے ، مولانا مدنی نے کہا کہ ملک اور قوم کے تناظرمیں یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے اگر عدالتوں کا احترام نہیں ہوگا اور اس کے فیصلوں کو ردکیا جائے گا تو ملک میں لاقانونیت پھیل سکتی ہے اور پھر ہر شخص طاقت سے اپنی بات منوانے کے لئے آزادہوگا ، مولانامدنی نے آخرمیں کہا کہ ہم عدالت کے تازہ فیصلہ سے مطمئن ہیں اور مصالحت کو لیکر آئندہ 5مارچ کو وہ جو بھی فیصلہ دیگی ہم اس کا استقبال کریںگے ۔آج عدالت میں جمعیة علماءہند کے وکلاءجس میں سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹرراجیو دھون،سینئرایڈوکیٹ راجیو رام چندرن،ایڈوکیٹ ورندا گروور ، ایڈوکیٹ آن ریکاڈر اعجاز مقبول کے علاوہ ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قرة العین، ایڈوکیٹ واصف رحمن خان،ایڈوکیٹ محمدعبداللہ، ایڈوکیٹ زین مقبول، ایڈوکیٹ ایوانی مقبول،ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ ہمسینی شنکر، ایڈوکیٹ پریانشی جیسوال و دیگر موجود تھے ۔