لکھنؤ : ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام سے متعلق معاملہ میں عدالتی فیصلہ کے خلاف عرضی پر سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ نے چہارشنبہ کو عرضی میں دستاویزی خامی ہونے کے سبب اس معاملہ کو دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردیا۔ جسٹس راکیش سریواستو کی سنگل بنچ نے عرضی گذاروں کے وکلاء کو خامی دور کرنے کی ہدایت دی۔ 1992ء میں ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو منہدم کرنے کے معاملہ میں سابق نائب وزیراعظم ایل کے اڈوانی، اس وقت کے چیف منسٹر یو پی کلیان سنگھ، سینئر بی جے پی قائدین مرلی منوہر جوشی، اومابھارتی، ونئے کٹیار، سادھوی رتمبرا کے بشمول 32 ملزمین کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں 30 ستمبر 2020ء کو اپنے فیصلہ میں الزامات منصوبہ سے بری کردیا۔ اس فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے سی بی آئی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ عرضی ایودھیا کے ساکن 74 سالہ محمد احمد اور 81 سالہ سید اخلاق احمد کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ تقریباً 28 برس تک چلے مقدمہ کی سماعت کے بعد جسٹس ایس کے یادو نے فیصلہ سنایا تھا کہ بابری مسجد انہدام کا واقعہ منصوبہ بند ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں اور نہ ہی سی بی آئی کی طرف سے الزامات کے واضح ثبوت موجود ہیں، لہٰذا تمام ملزمین کو بری کیا جاتا ہے۔ ہائیکورٹ میں داخل عرضی میں دونوں عرضی گذاروں نے کہا کہ وہ اس مقدمہ میں ملزمان کے خلاف گواہ تھے اور انہدام کے بعد متاثر بھی ہوئے تھے۔

BiP Urdu News Groups

اپنی رائے یہاں لکھیں