بابری مسجد معاملے کی کل سماعت ،جمعیتہ کے وکلاءمسلمانوں کا موقف پیش کریں گے : مولانا ارشد مدنی

0 21

نئی دہلی: بابری مسجد کی ملکیت کا حساس ترین مقدمہ کل سپریم کورٹ میں ایک بارپھرپیش ہوگا اورفاضل عدالت کل ہی آئندہ سماعت کیلئے لائحہ عمل بھی تیارکرسکتی ہے۔ معاملہ کی سماعت کس بینچ میں ہوگی اورسماعت کی نوعیت آئندہ کیا ہوگی، اس کا فیصلہ بھی کل ہوسکتا ہے، اس کیلئے جمعیتہ علمائ ہند کے وکلائ کا پینل اپنی تیاریاں مکمل کرچکا ہے۔بابری مسجد مقدمہ کی مضبوط پیروی کیلئے صدرمولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پرجمعیتہ علمائ ہند نے سینئروکلائ پر مشتمل ایک باقاعدہ پینل قائم کیا ہے اور جمعیتہ کے وکلاء اب تک انتہائی مدلل اورمثبت اندازمیں مسلمانوں کا موقف عدالت کے سامنے رکھ رہے ہیں،جمعیتہ علمائ ہند اوراس کے فعال صدرمولاناسید ارشد مدنی کا ابتدا ہی سے اس سلسلہ میں موقف بالکل واضح ہے۔مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا بہرصورت احترام کریں گے، لیکن مخالف فریقین اورفرقہ پرست تنظیمیں اس کے لئے تیارنہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہی نہیں ہے، بلکہ ملک کے آئین اور قانون کے وقاراوربالادستی سے جڑا ہوا معاملہ ہے اورمحض اعتقاد کی بنیاد پرکوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے لئے مضبوط ثبوت اورشواہد کی ہی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے وکلائ نے عدالت میں نہ صرف یہ کہ مثبت بحث کی ہے بلکہ مسجد سے جڑے ہوئے تمام قدیمی دستاویزات بھی عدالت کومہیا کرایا ہے، جن کا ترجمہ جمعیتہ علمائ ہند نے کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اس ملک کے پرامن شہری ہیں اورملک کے آئین اورقانون کا بھی وہ پورے صدق دل سے احترام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کی تمام تراشتعال انگیزیوں اوردھمکیوں کے باوجود انہوں نے صبروتمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ پرہمارا اعتماد بہت مضبوط ہےاورہمیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ عدالت اس حساس مقدمہ میں ثبوت وشواہد اورتاریخی دستاویزات کی بنیادپرقانون کے مطابق ہی فیصلہ دے گی اعتقاد کی بنیادپر نہیں۔ واضح رہے کہ اس مقدمہ میںجمعیتہ علمائ ہند روز اول سے فریق ہے ، اور بابری مسجد آراضی کو جب الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا گیا تھا توجمعیتہ علماء ہند نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں سب سے پہلے پٹیشن دائرکی تھی اوراسی پٹیشن پرقانونی جدوجہد اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔