!-- Auto Size ads-1 -->

از: محمد اکرم خان قاسمی حمایت نگر ناندیڑ
خلافت عثمانیہ (1517ءسے 1924ءتک)سولہویں اور سترھویں صدی عیسوی میں اپنے شباب پر تھی۔ اس کے زیر نگیں جنوب مشرقی یورپ،مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ تھا ۔29صوبوں پر مشتمل اس سلطنت کے حکمران ترک تھے ۔یکم نومبر 1922ءکو خلافت کے خاتمہ کے بعد مصطفی کمال پاشا کو بابا ترک کے طور پر پیش کر کے اہل مغرب نے سیکولرزم کے نام پر اتنی بے دینی پھیلائی کہ مسلمانوں کے دل میں فقط ایمان بچ گیا ۔فوج کو سیکولر قانون کا آئینی ذمہ دار بنایا گیا اور بزور بازو 1924ءکو خلافت کے اداروں پر پابندی لگائی گئی حتی کہ خلافت کی اصطلاح کو بھی اسمبلی سے منسوخ کیا گیا ۔اور 1926ءکو فقہ اسلامی کو بحیثیت قانون عدالتوں سے ختم کر دیا گیا۔اب حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ اگر کسی مسلمان کا انتقال ہوجاتا تو اسکی تجہیز و تکفین سنت و شریعت کے مطابق کرنے والا کوئی نہ ملتا۔شیخ محمود آفندی (1929ءتا 2022)کاتعلق ترکی کے مشرقی علاقہ سے تھا۔آپ کی پیدائش ان حالات میں ہوئی جب ملک سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ اسلامی شعائر پر پابندی لگائی جارہی تھی اسلامی علوم کو شجر ۃممنوعہ قرار دیا جارہا تھا ۔ان حالات میں اس وقت کے نیک،دور رس نظر رکھنے والے علماء نے آپکی تربیت کی ۔

سلسلۂ نقشبندی کے بزرگ حضرت علی حیدر اخسخوی نے خلیفۂ مجاز بنایا۔اور جب حضرت محمود آفندی میدان عمل میں آۓ تو قحط الرجال کا دور تھا ۔دس بیس سال اگر اسی طرح اسلامی علوم کی تعلیم روک دی گئی تو ڈر تھا کہ علوم دینیہ پڑھانے والے اساتذہ ختم ہو جائیں اور قوم کی دینی بے رازی کا یہ عالم تھا کہ 18سال آپ ایک مسجد میں اذان پڑھتے، نماز ادا کرتے رہےلیکن مسلم محلہ کے کسی شخص کو توفیق نماز نہیں ملی ۔آپکے ہمت و استقلال کی مثال شاید ہی پیش کی جاسکے کہ آپکی آواز دو عشروں تک صدا بصحرا ثابت ہوئی لیکن آپنے کوشش جاری رکھی۔میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگرراہ رو آتے گئے کارواں بنتا گیاکے مصداق آپکی مسلسل محنت نے رنگ دکھلایا۔اور آہ سحر گاہی سے پتھر پگھلا،دین بیزاری اور ملحدانہ اعمال کے نتائج بھگت کر اہل ایمان کے قدم مسجد کی طرف بڑھنے لگے۔اب شیخ کے پیچھے مصلیوں کی کافی تعداد تھی لیکن دینی تعلیم پڑھنے اور پڑھانے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔خدا خدا کرکے موسی امجا (چچا)کے تہہ خانے سے مکتب کی ابتداء ہوئی اور اصحاب صفہ کے نام لیوا ان مکتب کے طلباء سے ایک ایسے انقلاب کی شروعات ہوئی جو ترکی کے مسلمانوں کے مستقبل کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوا اور نام نہاد بابا ۓ ترک مصطفی کمال کے ذریعہ پھیلاۓ گئے بے دینی کے بت کو چکنا چور کرنے والا تھا ۔شیخ محمود آفندی(آفندی=جناب یا صاحب کا ہم معنی) کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے اپنی محنتوں کو ثمر آور ہوتے ہوئے دیکھا۔

بلکہ سعی پیہم ،ہمت،استقلال،اخلاص و للہیت مسلمانان ترکی کے ایمان کی حفاظت کی اور وارث انبیا ہونے کا حق ادا کر دیا۔موسی امجا کے تہہ خانے میں شروع کیا گیا مکتب سیکڑوں مدارس اور یونیورسٹیوں کی بنیاد کا سبب اور علوم دینیہ کی حفاظت کا ذریعہ بن گیا ۔اور انہیں اہل مکتب کے فیض یافتہ استاذ اربکان اور ان کے جانشین رجب طیب اردگان نے زمام حکومت سنبھالی تو ترکی ایک طاقتور مسلمان ملک بن کر دنیا میں متعارف ہوا اور دینی اعتبار سے بھی کئی مسلم ممالک کے لئے مشعل راہ ثابت ہوا۔آج جب ترک صدر رجب طیب اردگان کی آنکھیں اپنے پیر و مرشد کی جدائی پر اشکبار ہو گئی ہو گی وہیں اس عظیم مجاہد اور عظیم استاذ و مجددکے انتقال پر پورا عالم اسلام اشکبار ہیں۔
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را