اے بی پی سی ووٹر سروے: گجرات انتخابات میں ‘اویسی فیکٹر’ کتنا بڑا ہے؟ سروے کے اعداد و شمار جانئے

701

نئی دہلی:اس وقت ملک کی توجہ گجرات اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہے۔ اس الیکشن کے لیے تمام پارٹیاں بشمول بی جے پی، کانگریس، اے اے پی (بی جے پی، اے اے پی، کانگریس) انتخابی مہم میں بہت زیادہ مصروف ہیں۔

گجرات میں یکم اور 5 دسمبر کو ووٹنگ ہوگی۔ نتائج کا اعلان 8 دسمبر کو کیا جائے گا۔ بی جے پی، کانگریس کے علاوہ عام آدمی پارٹی بھی اس بار اپنی پوری طاقت لگا رہی ہے۔ اس سارے معاملے میں اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم پارٹی بھی مختلف دعوے کر رہی ہے۔

اے بی پی نیوز (اے بی پی سی ووٹر) کے لئے سی ووٹر نے گجرات اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں ہفتہ وار سروے کیا ہے۔ گجرات میں اویسی فیکٹر کو کتنا بڑا سمجھا جاتا ہے؟ یہ سوال پوچھا گیا۔
سی ووٹر نے اس سروے میں پوچھا کہ کیا گجرات میں اویسی کو بڑا فیکٹر مانا جاتا ہے؟ اس سوال کے جوابات سامنے آچکے ہیں۔

سروے میں 44 فیصد لوگوں نے اویسی کو گجرات میں بڑا فیکٹر مانا۔ جبکہ 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اویسی گجرات میں کم اہم عنصر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 31 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ گجرات میں اویسی فیکٹر نہیں ہیں۔

کیا آپ گجرات میں اویسی کو بڑا فیکٹر سمجھتے ہیں؟

بہت بڑا – 44%
کم اہم – 25%
کوئی عنصر نہیں – 31%

گجرات میں 10 فیصد مسلم آبادی ہے اور 53 سیٹوں پر اس کا خاص اثر ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی اب تک کانگریس کو ووٹ دیتی تھی لیکن اس بار عام آدمی پارٹی بھی اس کا دعویٰ کر رہی ہے۔

ادھر اسد الدین اویسی خود کو مسلمانوں کا سچا حامی بتا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر انکے امیدوار جیت گئے تو مذبح خانوں کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔