ایک وقت تھا جب استاد کے خوف سے جان نکل جاتی تھی… آج کا استاد اپنی عزت کیوں کھو رہا ہے؟ وجوہات جانیے

0 5

 ماں نے پوچھا، بیٹا آپ کا اتنا موڈ کیوں خراب ہے ؟ بیٹا کہتا ہے، ماما میری ٹیچر نے مجھے آج کلاس سے بلاوجہ نکال دیا میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ ماں غصے میں بولی آج کے ٹیچرز کو بس آسانیاں چاہئیں۔ کوئی گورنمنٹ اسکول تھوڑی ہے کہ ٹیچر جو چاہے سلوک کرے اتنی فیسیں کس بات کی لے رہے ہیں۔ کل ہی تمھارے پرنسپل سے بات کرتی ہوں ۔ بیٹا دوسرے دن، میم آپ مجھ سے اس طرح بات نہیں کر سکتیں میرے والدین آج پرنسپل سے ملیں گے ۔ یہ آجکل کے شاگردوں کی دھمکیاں ہیں جنھیں آج کا استاد برداشت کر رہا ہوتا ہے۔ بالخصوص پرائیوٹ اسکول کے اساتذہ کو شاگردوں کی نازک مزاجی کو سہنا پڑتا ہے کیونکہ اسکول بچوں سے فیس کی مد میں ایک بھاری رقم وصول کرتے ہیں اور اور وہ کسی صورت ان شاگردوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ ان سب میں قربانی کا بکرا استاد کو بنایا جاتا ہے۔ ان حالات کے زیر اثر اخلاقی اقدار تو کہیں کھو گئی ہیں ۔ ایک زمانہ تھا استاد کو انتہائی عزت و اکرام سے دیکھا جاتا تھا نہ صرف شاگرد بلکہ ان کے والدین بھی استاد کی بے حد عزت کرتے تھے۔

بچہ ماں باپ کی بات نہیں مانتا تھا تو اس کو استاد کی دھمکی دی جاتی تھی کہ اس کی شکایت اس کے استاد سے کر دی جائے گی۔ لیکن آج کا استاد تو اتنا مضبوط نہیں ہے۔ اوپر بیان کی گئی وجہ بے شک ہے لیکن ان حالات کے باوجود اور کونسی وجوہات ہیں؟ اساتذہ متعدد وجوہات کی بناء پر کسی بھی معاشرے کا ایک انتہائی اہم پہلو ہوتے ہیں اور معاشرے میں ان کا کردار اہم اور قابل قدر ہوتا ہے۔ اساتذہ بچوں کی زندگی میں ان کی نشوونما کے ابتدائی سالوں میں ایک غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں اور اساتذہ کی اہمیت ایک ایسی چیز ہے جس کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنے طلباء کو اپنے ملک کے ذمہ دار شہریوں میں ڈھالنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں اساتذہ کو ہمارے طلباء کو پڑھانے میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اساتذہ حقیقی طور پر اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس حد تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ اس کے برعکس بعض باتوں کی وجہ سے اساتذہ کا احترام ختم ہو رہا ہے! آج کی نسل کو پڑھانا ایک مشکل ترین کام ہے اور اساتذہ کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ کیونکہ جیسے ذندگی کے ہر میدان میں کمرشلائزیشن بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے اخلاقی اقدار اثر انداز ہو رہی ہیں اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی ان چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اب ان ہی حالات کے مطابق اپنے مقاصد کو پورا کرنا ہے۔ ذیل میں کچھ نکات ہیں جو اساتذہ کی عزت کم ہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔

1. طالب علم کی فنگر ٹپ پر معلومات ہیں، کلاس میں اچھی تیاری سے جائیں:ہر نسل کی ایک منفرد خوبی ہوتی ہے جو اسے اپنے وقت کے لیے حیرت انگیز بناتی ہے، اسی طرح آج کی نسل بھی! حقیقت میں، ہم موجودہ نسل کے بچے کا پچھلی نسل سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ مواقع، ٹیکنالوجی وغیرہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ آج جو مواقع میسر ہیں وہ پچھلی نسل کے وقت سے زیادہ ہیں۔ اس پہلو کے ساتھ، اساتذہ عام طور پر کلاس میں اپنے رویے کو بدلتی نسلوں کے ساتھ نہیں بدلتے۔ آج کے استاد کو اپنے آپ کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنا ہے اور کلاس میں مکمل معلومات کے ساتھ جانا ہے کیونکہ ہر چیز آج کے شاگرد کی فنگر ٹپس پر ہے۔ ان پر اپنے خیالات کی زبردستی کرنا نتیجتاً ان کے ذہن میں آپ کی عزت کو کھونے کا سبب بن سکتا

ہے۔

 2. طلباء کے سوالات کو نظر انداز کرنا:طالب علم کے ہر سوال کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہمیں کبھی بھی طالب علم کے استفسار کو بیکار نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر طالب علم بار بار سوالات کے زریعے کلاس کو ڈسٹرب کر رہا ہے اگر وہ شرارت کر رہا ہے تو اسی کو موجودہ موضوع پر کلاس کے سامنے بات کرنے کے لئے ایک منٹ دے دیا جائے۔تمام طلباء کے تمام سوالات کو سننا اور ان کو مطمئین کرنا تمام اساتذہ کا فرض ہے۔

 3. کلاس رومز میں ٹیکنالوجی کا استعمال:آج پوری دنیا ٹیکنالوجی کی مداح ہے۔ شعبہ تعلیم اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ زیادہ تر استاد اب بھی پرانے طریقوں پر قائم ہیں۔ وہ عملی تصورات سکھانے کے لیے روایتی تدریسی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں موضوع کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تھیوری لیکچر کے 1 گھنٹے میں، طلباء 10-12 منٹ سے زیادہ نہیں سنتے! حقیقی زندگی کی مثالیں، PPTs ، کلاس روم کی سرگرمیاں دے کر لیکچر کو انٹرایکٹو رکھنا طلباء کی دلچسپی پیدا کرنے اور موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔

 4. طلباء کے ساتھ پیشہ ورانہ برتاؤ کرنا: طلباء کو بعض اوقات اپنے مسائل کے لیے ذاتی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ مسائل تعلیمی یا پروجیکٹ سے متعلق ہوں۔ وہ ذاتی یا کسی بھی قسم کا مشورہ ہو سکتا ہے جو وہ آپ سے مانگ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ زیادہ پیشہ ورانہ ہونا آپ اور طلباء کے درمیان رابطہ کھو دیتا ہے۔ ایسی صورت میں طلباء یہ محسوس نہیں کرتے کہ آپ کوئی مشورہ طلب کرنے کے لیے صحیح شخص ہیں۔ بعض اوقات شاگردوں کے ساتھ دوستانہ رویہ آپ کو ان سے قریب کر دیتا ہے ۔ استاد کو اپنا رویہ حالات کے مطابق کبھی نرم کبھی گرم رکھنا پڑتا ہے۔

  5. اسپون فیڈنگ:طلبہ کو مواد کی فراہمی مطالعہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ استاد جوابات پر مشتمل ایک مکمل مواد فراہم کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ دراصل طالب علم کی سوچ کی سطح کو کم کر رہے ہیں۔ طالب علم ایسے معاملات میں آؤٹ آف باکس سوچنے میں ناکام رہتا ہے۔ استاد کا کردار اسپون فیڈر کا نہیں رہنما کا ہے۔ 6۔ کلاس روم میں نظم و ضبط کو نظر انداز کرنا:کلاس روم میں نظم و ضبط کی خاص ضرورت ہے۔ کلاس روم میں ہمیشہ کچھ شرارتی طلباء ہوں گے۔ ٹیچر کے پاس کلاس روم کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ بعض طلباء شرارتی ہوتے ہیں وہ نہ صرف اپنا بلکہ پوری کلاس کا وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک ہوشیار استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسے حالات سے کیسے نمٹا جائے۔

 7. ذاتی طور پر چند طلباء کو پسند کرنا:آخر ہم انسان ہیں؛ ہم کچھ چیزوں/لوگوں کے لئے متعصب رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض طالب علم اساتذہ کے بہت سی وجوہات کی بنا پر پسندیدہ ہوتے ہیں۔ اگر طالب علم واقعی محنت کر رہا ہے، تو ان کی طرفداری کرنا بالکل ٹھیک ہے، تاہم کئی بار مسلسل بعض طلباء کی حمایت کرنا دوسرے طلباء پر منفی تاثر پیدا کرتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں استاد کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ استاد کا غیرجانبدار رہنا بہتر رہتا ہے۔ ان تمام نکات کے ساتھ اس حقیقت کو سمجھیں کہ ایک استاد کا کردار سرپرست کا ہے! سیکھنا طالب علم کی مکمل ذمہ داری ہے لیکن ان کے لیے ماحول بنا نا استاد کا کام ہے۔اگر استاد اپنے آپ کو ان خصوصیات کے مطابق ڈھال لے تو کوئی رکاوٹ ایسی نہیں ہے جو اس کے راستے میں آئے۔ پیشہ ور استاد ہمیشہ سراہا جاتا ہے۔