آج یوم ولادت کے موقع پر خصوصی تحریر
مفتی محمد احمد خان قاسمی (امام وخطیب قریشیہ شہر صدر جمعیت علماء ناندیڑ)
حضرت ٹیپو سلطان 20نومبر 1750ء(بمطابق بروز جمعہ 02 ذوالحجہ 1163ھ)دیوانھالی میں پیدا ہوئے. موجود دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے جو بنگلور شھر سے 33کلیومٹر شمال میں واقع ہے ٹیپو سلطان کا نام ارکاٹ کے بزرگ ٹیپو مستان اولیاء کے نام پر ہے. انہے اپنے دادا فتح محمد نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کھاجاتا ہے. حیدر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور فوج وسیاسی امور میں آپ کو نوعمری میں ہی شامل کیا. 17سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا. اور آپ کو اپن والد حیدر علی کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا.

ٹیپو سلطان نے 20محرم 1196ھ مطابق 27 دسمبر 1782 میں زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی. ایک طرف سلطان کو ایک وسیع وعریض اور مضبوط سلطنت ملی تو دوسری طرف طرف ریاست کے خلاف اندر اور باہر ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو ہوا دینے والے گروہ کی عداوت بھی ورثہ میں ملی.ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے ساتھ تین بڑی بڑی جنگ لڑی اور فتح کو حاصل کیا باوجود یہ کے انگریز کے ساتھ ملک دشمن طاقتیں بھی موجود تھی اور میر صادق کا کردار ادا کرنے والے بھی بہت سے لوگ تھے اور آخری جنگ 4مئی 1799ء کو ہوئی.

صبح سے شروع ہوئی لڑائی کا یہ سلسلہ عصر کے بعد بھی برابر جاری رہا دست بدست مقابلہ کرنے سے سلطان کے جسم میں کئی گولیاں پیوست ہوچکی تھیں اور بری طرح زخمی ہوچکے تھے اسی دوران سلطان کے نو مسلم خادم راجہ خان نے سلطان کو آواز دی حضور اگر اب بھی اپنی جان کی حفاظت کے لئے خود کو دشمن کے حوالے کردیں تو وہ آپ کے منصب کا پاس رکھ کر آپ کی جان بخش دیں گے، سلطان یہ الفاظ سن کر جلال میں آگیا، غ سے پلٹ کر بلند آواز سے کہنے لگا کہ :*،، میرے نزدیک شیر کی ایک دن کی زندگی گیدر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے،،

مغرب کے وقت تھا اسی دوران دور سے دشمن کے ایک سپاہی نے سلطان کی کنپٹی کو فائر سے نشانہ بنایا، گولی دائیں کان کے ذار اوپر لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے سلطان زمین پر گر گیا اور اسی وقت اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئیانا للہ وانا الیہ راجعو،، ،،، ن

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔