بھارت میں والدین نے اپنے اکلوتے بیٹے اور بہو پر ایک منفرد مقدمہ کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایک سال کے اندر بچہ پیدا کرکے ہمیں دادا، دادی بناؤ ورنہ پھر ہرجانہ بھرو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہریدوار میں ایک ریٹائرڈ سینیئر افسر پراساد اور ان کی اہلیہ نے اپنے پائلٹ بیٹے اور بہو کے خلاف ‘ذہنی طور پر ہراساں کرنے’ کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہے کیونکہ وہ شادی کے چھ سال بعد انہیں پوتا یا پوتی دینے میں ناکام رہے۔

رپورٹس کے مطابق والد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنے بیٹے کو تعلیم دلانے اور امریکا میں اس کی تربیت کے لیے مالی امداد کے بعد اب کوئی پیسہ نہیں بچا اس لیے ہمیں خوشی نہ دینے پر بیٹا اور بہو ہرجانہ بھریں تاکہ ہماری مالی حالات ٹھیک ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بیٹےکی شادی 2016 میں پوتے پوتیوں کی امید میں کی۔ ہمیں جنس کی کوئی پرواہ نہیں ، ہم صرف دادا، دادی بننے چاہتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق والدین کا مؤقف ہے کہ شادی کے 6 سال بعد بھی بچہ پیدا نہ کرنے اور اپنی ساری دولت بیٹے کی تعلیم پر خرچ کرنے کے بعد ہم نے بیٹے اور بہو کے خلاف مقدمہ کرتے ہوئے 5 کروڑ بھارتی روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پراساد کے وکیل نے بیٹے کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں کہا کہ یہ مقدمہ معاشرے کی سچائی کو پیش کرتا ہے’ہم اپنے بچوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، انہیں اچھی نوکری حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں’۔

درخواست کے مطابق والدین نے ایک سال کے اندر بچہ پیدا کرنے یا پھر 5 کروڑ بھارتی روپے کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق یہ درخواست ہریدوار کی ایک مقامی عدالت میں ہفتے کے روز دائر کی گئی جس پر سماعت 15 مئی کو ہوگی۔