ایسا ممکن ہے اور بیلجیئم میں ایسا کیس سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون بیک وقت ایلفا (جو سب سے پہلے برطانیہ میں سامنے آئی) اور بیٹا (جو سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں سامنے آئی تھی) سے متاثر ہوئی اور پھر چل بسی۔90 سالہ خاتون کو آلسٹ نامی شہر کے ایک ہسپتال میں مارچ 2021 میں داخل کرایا گیا اور وہاں کووڈ کی تشخیص ہوئی۔

اس خاتون کی کووڈ ویکسینیشن نہیں ہوئی تھی اور بیماری کے آغاز میں جسم میں آکسیجن کی سطح اچھی تھی مگر پھر بہت تیزی سے حالت خراب ہوئی اور 5 دن بعد انتقال ہوگیا۔طبی معائنے سے محققین نے دریافت کیا کہ خاتون بیک وقت کورونا وائرس کی 2 اقسام ایلفا اوربیٹا سے متاثر تھین۔

آلسٹ کے او ایل وی ہاسپٹل کی مالیکیولر بائیولوجسٹ اینی وینکر برجن نے بتایا ‘بیلجیئم میں اس وقت کورونا کی یہ دونوں اقسام گردش کررہی تھیں، تو قوی امکان یہ ہے کہ وہ 2 مختلف افراد سے 2 مختلف اقسام سے متاثر ہوئی’۔انہوں نے کہا ‘بدقسمتی سے ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ خاتون کس طرح کووڈ کا شکار ہوئیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ 2 اقسام سے بیمار ہونے کے نتیجے میں مریضہ کی حالت اتنی تیزی سے خراب ہوئی۔اس حوالے سے تحقیق ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ یورپین کانگریس آن مائیکروبائیولوجی اینڈ انفیکشیز ڈیزیز میں اس کے نتائج پیش کیے گئے۔

محققین نے بتایا کہ اگرچہ اب تک اس طرح کے 2 اقسام سے بیک وقت بیمار ہونے کے کیسز کے نتائج شائع نہیں ہوئے مگر ممکنہ طور پر اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جارہی۔

انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا کی اقسام کے حوالے سے ٹیسٹنگ کی صلاحیت محدود ہے اور اقسام کی شناخت کےل یے تیز پی سی آر ٹیسٹنگ کا اپنانا چاہیے۔

اس سے قبل جنوری 2021 میں برازیل میں سائنسدانوں نے 2 افراد کے بیک وقت 2 مختلف اقسام سے متاثر ہونے کو رپورٹر کیا تھا، مگر اس تحقیق کے نتائج اب تک کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے۔

دیگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت حیران کن نہیں کہ کوئی فرد کورونا کی ایک سے زیادہ اقسام سے متاثر ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیلجیئم کی تحقیق میں اس حوالے سے مزید تحقیقی کام کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کیا متعدد اقسام سے متاثر ہونا کووڈ 19 کی بیماری پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسا ہونے سے کیا ویکسنیشن کی افادیت پر تو منفی اثرات نہیں ہوتے۔