ایک اور بڑے عالم دین، داعئ اسلام اور مصلح مولانا صہیب صاحب کا انتقال ہوچکا ہے، مرحوم اسلام اور انسانیت کی خدمت کرنے والے عظیم انسان تھے،

ممبئی کے قریب ممبرا جیسی گنجان مسلم آبادی جوکہ بے راہ روی کی وجہ سے پریشان آبادی تھی ایسی جگہ پر انہوں نے تبلیغی مرکز دارالفلاح اور مدرسہ کے ذریعے جو بےلوث خدمات انجام دی ہیں وہ انمٹ ہیں، ایسے حالات میں انہوں نے پسینہ بہا کر کام کیا جبکہ ممبرا ميں کام کرنا جوئے شیر لانے جیسا کارنامہ تھا، ان کی محنتوں کے روحانی ثمرات اور برکات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں، ہزاروں مسلم نوجوان ان کے ذریعے صحیح راستے پر آئے اور تعلیمی و تبلیغی بیداری کے ستون بنے، مولانا صہیب

صاحب کی بھی وفات ہوگئی اسطرح تھانہ، ممبرا، ممبئی ایک عظیم اور ہردلعزیز مخلص دینی رہنما سے محروم ہوگیا جس کی ابھی سخت ضرورت تھی۔
ابھی مولانا ولی رحمانی کی وفات کے صدمے میں ہی تھے کہ صہیب صاحب بھی ہمارے درمیان سے چلے گئے اللہ اللہ کیا دن ہے آج قیامت کا، ایسے بے لوث اور دلِ دردمند رکھنے والے مخلص کا اٹھا لیا جانا کیسی جانکاہ خبر ہے، جس کے بیانات مہاراشٹر کے تبلیغی اجتماعات میں ہم لوگ سننے کے لیے بچپن میں اہتمام سے جایا کرتے تھے، جن کے پاس بیٹھنے سے ایمان میں

حرارت اور اللّٰہ کی خشیت محسوس ہوتی تھی، کتنے ہی شکستہ قلوب والے اپنے دلوں پر مرہم رکھنے کیلیے ان کی طرف جایا کرتےتھے، بد سے بدتر جرم پیشہ نوجوان کو بھی وہ گلے لگا کر ایک مسکراہٹ سے اس کا دل نرم کردیتے تھے، ان کا دل بہت نرم تھا ان کی تڑپ نایاب تھی، بہرحال دارالفلاح کی وہ رونق چلی گئی، جس رونق کو دور سے ایک نظر دیکھنے ہم جایا کرتے تھے، ممبرا، تھانے جیسے علاقے میں صاحبِ دل شخصیت کا ایک عہد تمام ہوا، ولی رحمانی صاحب بھی چھوڑ گئے جبکہ اُن کی ملت کو بہت ضرورت تھی، اچھے اچھے لوگ جیسے روٹھ روٹھ کر جارہےہیں ۔ تعزیت کس سے کریں؟ ابھی تو خود سے ہی کرتےہیں ۔ پھر کبھی تفصیل سے دونوں بزرگوں کی عظمت پر بات کرینگے ۔
الله دونوں بزرگوں کی قبروں کو نور سے بھر دے، رحمت کی برسات فرمائے، دینِ اسلام کے یہ دو عظیم سپاہی زندگی بھر اسلامی سربلندی کے لیے کھپا کر، تھک ہار کر، اپنے رب کی آغوش میں چلے گئے ہیں، الله کامل مغفرت فرمائے۔

✍: سمیع اللّٰہ خان