آج علی الصباح دیڑھ بجے پھر ایک مخلص دوست بسم اللہ خاں 64سال کی عمر میں مجھ سے ہمیشہ کےلئے بچھڑگیا۔برو ز جمعرات 28جنوری کی صبح گیارہ بجے ڈاکٹر رفیق اکمل نے یہ خبر غم سنائی کہ موظف مدرس بسم اللہ خاں ولد وزیرخاں کوشب دیڑھ بجے کے قریب شدید دل کادورہ پڑا اور انھوں نے داعی اجل کو لبیک کیا ۔ان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر مسجد عابدین نئی آبادی ناندیڑمیںپڑھی گئی اوراسی مسجد کے قبرستان میں عزیزواقارب اوراحباب نے انھیں بادیدئہ نم سپرد لحد کیا۔مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ‘تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔

مرحوم بسم اللہ خاں پیپلز کالج ناندیڑمیں میرے B.A سال اول تاسال سوم تک ہم جماعت رہے تھے ۔یہ 1973 تا1975 کازمانہ تھا جب کالج کے صدر شعبہ اردو پروفیسر ڈاکٹرصادق ہواکرتے تھے ۔ بی ۔اے پاس کرنے کے بعد ہم دونوں دو۔ تین سال کے لئے بچھڑگئے لیکن 1982 میں جب میں نے اورنگ آباد کے مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن میں B.Ed. میںداخلہ لیاتو بسم اللہ خاںB.Ed کاامتحان دے چکے تھے اس طرح انھوں نے مجھ سے ایک سال قبل بی ایڈ کیا۔ ان کاتقرر ڈاکٹرذاکرحسین ہائی اسکول پربھنی میں ہواا ورمیں رتناگیری ضلع چلاگیا ۔ بعد میں بسم اللہ خاں‘ذاکرحسین اسکول کی ملازمت ترک کرکے ضلع پریشد پربھنی کے گرلز ہائی اسکول میں ملازم ہوگئے تھے ۔

انھوں نے چند سال ضلع پریشد ہائی اسکول ‘پاتھری میں بھی درس و تدریس کی خدمات انجام دیں اور وظیفہ حسن خدمت پرسبکدوش ہوئے ۔اس عرصہ میں اُن سے میری ملاقات گاہے ماہے ہوتی رہی ۔ بسم اللہ خاں ایک غریب خاندان کے چشم و چراغ تھے لین محنت ‘لگن کے باعث باوقار طریقے سے ملازمت کی اور زندگی گزاری‘وہ کالج کے زمانے سے ہی ایک جذباتی راسخ العقیدہ مسلم نوجوان رہے ہیں ۔میں اور و ہ ناندیڑ کی حبیب ٹاکیز کے سامنے شاہراہ پر واقع مولوی نصرت حسین صدیقی (مرحوم) کے مکتبہ رہنمائے انسانیت جایاکرتے تھے ۔ اس وقت مولوی نصرت حسین نوجوانوں کی ایک تنظیم اسلامک یوتھ آرگنائزیشن کے سرپرست تھے ۔ چونکہ مولوی صاحب جماعت اسلامی ہند سے وابستہ تھے اس لئے یہ تنظیم بھی جماعت اسلامی کے زیراثرس تھی ۔بسم اللہ اکثرکہاکرتے تھے کہ ناندیڑ میں ان کے ہیرو پروفیسر نوراللہ خاں اور عربستان میں صدر لیبیاءکرنل معمر قذافی ہیں ۔یہ دونوں شخصیات چند سال ہوئے اس دنیائے فانی سے رخصت ہوچکی ہیں ۔ اور آج بسم اللہ خاں نے بھی اس جہان فانی کو الوداع کہہ دیا ۔رب العزت ‘پروردگارِ عالم بسم اللہ خاں کے تمام گناہوں اورلغرشوں کومعاف کرے ۔ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاءکرے اورپسماندگان کو صبروتحمل دے ۔ آمین۔
٭محمدتقی(ایڈیٹر ورق تازہ ‘ناندیڑ