ایودھیا (یوپی) 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آئندہ سال منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل ایودھیا میں رام مندر کی جلد تعمیر کے لئے آوازیں اُٹھائی جارہی ہیں۔ ایسے میں کئی مقامی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس متنازعہ جگہ کو بچوں کے لئے کھیل کے میدان میں تبدیل کردیا جائے نہ کہ سیاست دانوں کے لئے۔ فرقہ پرستی کے سایہ میں رہتے ہوئے بیزار ہوکر ایودھیا کے لوگ خواہ وہ وجئے سنگھ ہو یا محمد عظیم یہ نہیں چاہتے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے یہاں کوئی نئی سیاسی سرگرمیاں ہوں۔ وجئے سنگھ ایک ڈاکٹر ہیں جو رام جنم بھومی کے قریب رہتے ہیں۔ ایک پارسا ہندو ہیں لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر دو طبقات کے درمیان کشیدگی کا باعث ہو تو وہ وہاں مندر کی تعمیر کے حق میں نہیں ہیں۔ 48 سالہ وجئے سنگھ نیکہاکہ وہ 6 ڈسمبر 1992 ء کے منحوس دن ایودھیا میں موجود تھے جب رائٹ ۔ ونگ کارکنوں کی جانب سے بابری مسجد کو منہدم کردیا گیا تھا اور اس کے بعد اس شہر میں ہوئے فسادات دیکھے ہیں۔ وجئے سنگھ نے کہاکہ ’’ایودھیا کے عوام عرصہ دراز سے پرامن طور پر اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ رہتے آرہے ہیں لیکن سیاست داں ان کے ایجنڈہ کے تحت آگ بھڑکا رہے ہیں اور عوام کو اُکساتے رہے ہیں۔ 1992 ء میں بھی کئی لوگ باہر سے یہاں آئے تھے تاکہ اس اسٹرکچر (مسجد) کو گرایا جائے۔ وہ ایک بہت المناک اور بدبختانہ واقعہ تھا اس سے ایودھیا آج تک متاثر ہے‘‘۔ شہر میں زیادہ تر لوگوں کی طرح، سنگھ لارڈ رام کے ایک بھگت ہیں اور ’سگریو کلا‘ کے بازو ان کے کلینک کے آہنی گیٹس پر ’جئے سری رام‘ ہندی میں لکھا ہوا ہے۔ رام جنم بھومی کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے وہ اور ان کی اہلیہ بھگتوں کو طبی مدد فراہم کرنے کے لئے ایک میک شفٹ کاؤنٹر چلاتے ہیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’ہم لارڈ رام میں ایقان رکھتے ہیں اور میں شخصی طور پر وہاں مندر تعمیر کئے جانے پر کوئی اختلاف نہیں کرتا لیکن اگر اس کی وجہ دو طبقات کے درمیان تلخی پیدا ہوتی ہے تو پھر میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ اس کے بجائے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ متنازعہ جگہ کو ایک پلے گراؤنڈ بنادیا جانا چاہئے جہاں تمام عقیدوں کے بچے ایک ساتھ مل کر کھیل سکتے ہیں‘‘۔ متنازعہ مقام پر رام مندر کی جلد تعمیر کے لئے پارٹی اور سنگھ پریوار کی جانب سے زور دیا جارہا ہے۔ بی جے پی کے کئی قائدین بشمول اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے کاموں میں تیزی پیدا کرنے کے لئے ہوا دے رہے ہیں اور ان میں سے بعض قائدین بشمول مرکزی وزیر وجئے گوئل نے اس کے لئے آرڈیننس کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایودھیا کے مقامی شخص ویویک ترپتھی جنھوں نے ملک کے کئی مقامات کے علاوہ بیرون ملک بھی ایک سافٹ ویر انجینئر کی حیثیت سے کام کیا ہے، دیپوتسو تقاریب میں شرکت کے لئے ان کی فیملی کے ساتھ ٹاؤن میں تھے۔ انھوں نے 1992 ء کے ہولناک واقعات کو یاد کیا جب وہ ایک اسکولی طالب علم تھے۔







اپنی رائے یہاں لکھیں