حیدرآباد:(ایجنسیز) اپنے بیانات کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے ایودھیا میں تعمیر ہونے والی مسجد کے بارے میں ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ ایودھیا میں بن رہی مسجد میں نماز پڑھنا حرام ہے۔ صرف یہی نہیں ، اویسی نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی مسجد کی تعمیر کے لئے کوئی چندہ نہیں دینا چاہئے۔

اویسی نے کہا کہ بابری مسجد کی جگہ پر پانچ ایکڑ اراضی حاںصل کرکے ایک مسجد بنا رہے ہیں۔ ایک مجاہدِ آزادی احمد اللہ کا نام رکھنا چاہتے ہیں۔ اے ظالمو! چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔ اگر وہ احمد اللہ زندہ ہوتے تو کہتے کہ یہ مسجد ضرار ہے ۔ میں نے ہر مذہب کے علمائے کرام سے پوچھا، مفتیوں سے پوچھا، ذمہ دار وں سے پوچھا تو سب نے کہا کہ اس مسجد میں نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد جس پانچ ایکڑ اراضی پر مسجد تعمیر کی جارہی ہے ، وہاں نماز پڑھنا حرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کوئی بھی چندہ نہ دے ، اگر آپ چندہ دینا چاہتے ہیں تو بیدر میں کسی یتیم کو چندہ دے دیں۔

اطہر حسین کا اویسی کے بیان پر پلٹوار
دوسری طرف ، ایودھیا مسجد ٹرسٹ کے سیکرٹری اور ہند اسلامی ثقافتی فاؤنڈیشن کے سیکرٹری اطہر حسین نے اسدالدین اویسی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی زمین پر نماز ادا کی جاتی ہے وہ جگہ کو حرام نہیں ہو سکتی ۔ اطہر حسین نے اس کو اویسی کے سیاسی ایجنڈے سے متعلق بیان قرار دیا ہے۔