ایودھیا میں وی ایچ پی کی ’دھرم سبھا‘ سیاسی چال

0 14

ہندو عوام کو مزید بے وقوف بنانے کی تیاری ۔ مسلم کمیونٹی کی حفاظت و سلامتی پر اظہار تشویش۔ مسلم پرسنل بورڈ کے قائدین کا بیان

لکھنو ، 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ وی ایچ پی اتوار کے ایونٹ کی تیاری کررہا ہے جسے ایودھیا میں 1992ء کی ’کارسیوا‘ کے بعد سے ’رام بھکتوں‘ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جارہا ہے جب بابری مسجد منہدم کردی گئی تھی، مسلم قائدین اسے ووٹروں کو رجھانے کی سازش سمجھ رہے ہیں۔ رکن کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ ظفریاب جیلانی نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ اس ایونٹ کا مقصدسیاسی ہے اور اس تعلق سے کوئی شائبہ نہیں ہے۔ 2019ء کے لوک سبھا چناؤ کیلئے ماحول تیار کیا جارہا ہے۔ ایودھیا میں کارکنان جمع ہونے لگے ہیں، چنانچہ بعض مسلم قائدین نے وشوا ہندو پریشد کی ’دھرم سبھا‘ کے دوران ایودھیا میں اپنی کمیونٹی کی حفاظت و سلامتی کے بارے میں خدشات بھی ظاہر کئے ہیں۔ شیو سینا ورکرس بھی اس مرتبہ ایودھیا میں متوقع ہیں۔ ایک اور رکن مسلم پرسنل لا بورڈ خالد رشید فرنگی محلی نے بھی وی ایچ پی ایونٹ کو انتخابات سے جوڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چھوٹا بچہ تک جانتا ہے کہ ملک میں ماحول بگاڑنے کی کوشش ہورہی ہے تاکہ ایسے وقت فوائد حاصل کئے جاسکیں جب اسمبلی انتخابات بعض ریاستوں میں منعقد کئے جارہے ہیں اور لوک سبھا انتخابات آئندہ سال کے اوائل مقرر ہیں۔ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ چونکہ یہ یقینی ہوچلا ہے کہ ایودھیا کا فیصلہ لوک سبھا چناؤ سے قبل نہیں ہوپائے گا، اس لئے ان لوگوں کا ووٹ برقرار رکھنے کی کوشش ہورہی ہے جنھوں نے گزشتہ انتخابات میں رام مندر کی امید کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ عوام ان سے غیرمتاثر ہوتے جارہے ہیں جنھوں نے ایودھیا میں رام مندر کا وعدہ کیا تھا، اور یہ مزید ایک کوشش ہے کہ ایسی قوتوں سے ان کی امیدیںبرقرار رکھی جائیں اور انھیں مزید کچھ عرصہ تک بے وقوف بنایا جائے۔ دونوں قائدین نے کہا کہ حکومت کو ایودھیا میں رہنے والے مسلمانوں اور ہندوؤں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا چاہئے جب وی ایچ پی ایونٹ منعقد ہوگا؛ 1992ء کی ’کارسیوا‘ کو ذہن نشین رکھنا ہوگا جو متنازعہ مقام پر بابری مسجد کے انہدام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا تھا۔ فرنگی محلی نے کہا کہ حکومت اور نظم و نسق کی ذمہ داری ہے کہ ایودھیا میں عام لوگوں کی سلامتی کیلئے نقائص سے پاک انتظامات کئے جائیں تاکہ یقینی بنایا جاسکے کہ 1992ء کی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آنے پائے۔ انھوں نے کہا کہ دھرم سبھا سے قبل بعض بیانات نے ایودھیا کے مسلمانوںمیں خدشات پیدا کئے ہیں، لیکن انھوں نے وضاحت نہیں کی۔ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد ملکیت کے مقدمہ کے تین مسلم داعیان اقبال انصاری، حاجی محبوب اور محمد عمر نے حال میں دعویٰ کیا تھا کہ ایودھیا میں مسلم کمیونٹی کو عدم سلامتی کا احساس ہورہا ہے۔ تاہم، فیض آباد سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انیل کمار سنگھ نے کمیونٹی کی حفاظت کا یقین دلایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی کسی چیز سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم مجوزہ تقاریب کے دنوں میں بھاری سکیورٹی کا انتظام کررہے ہیں۔ وی ایچ پی نے کہا ہے کہ اسے دھرم سبھا کیلئے زائد از ایک لاکھ افراد کے ہجوم کی توقع ہے۔ وی ایچ پی نے دعویٰ کیا ہے کہ بعد میں نئی دہلی میں اسی طرح کے ایونٹ میں زائد از پانچ لاکھ افراد متوقع ہیں۔ شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے وی ایچ پی ایونٹ سے ایک روز قبل رام للا پر حاضری دینے کیلئے ایودھیا کا دورہ کررہے ہیں۔ وی ایچ پی وائس پریسیڈنٹ چمپت رائے نے حال میں کہا ہے کہ ہندوؤں کو بھروسہ ہے کہ سپریم کورٹ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے حق میں رولنگ دے گی۔ سپریم کورٹ نے 12 نومبر کو رام جنم بھومی۔ بابری مسجد ملکیت تنازعہ کے کیس میں دائر کردہ عرضیوں کی عاجلانہ سماعت سے انکار کیا تھا۔