ایودھیا معاملہ میں عدالت کو آر ایس ایس ، بی جے پی کی دھمکی تشویشناک :پروفیسر سوز

0 10

سری نگر، 7نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ وہ اس بات کے لئے بہت پریشان ہیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے کچھ سرکردہ لیڈروں نے سپریم کورٹ کو ایودھیا میں فوری طور رام مندر تعمیر کرنے کے لئے دھمکانا شروع کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیڈران سپریم کورٹ پر ایودھیا معاملے میں جلد از جلد فیصلہ سنانے کے لئے دباﺅ ڈال رہے ہیں۔ پروفیسر سوز نے آج یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا ‘میں اس بات کے لئے بہت ہی دکھ محسوس کر رہا ہوں اور پریشان بھی ہوں کہ آر ایس ایس بی جے پی سنگٹھن کے کچھ سرکردہ لیڈروں نے سپریم کورٹ کو ایودھیا میں فوری طور رام مندر تعمیر کرنے کے لئے دھمکانا شروع کیا ہے اور ان لیڈروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جلد از جلد فیصلہ سنائے ‘۔ انہوں نے کہا ‘اس سنگٹھن کے کچھ لیڈر یہ کہتے ہیں کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کے لئے ہندو سماج کی مجبوری ہے ۔ ایسے لیڈر سپریم کورٹ کو زور دار طریقے سے یہ کہنے لگے ہیں کہ ہندو سماج ایودھیا میں جلد از جلد رام مندر تعمیر کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ سماج بڑی دیر سے یہ مطالبہ کرتا آیا ہے ۔اس لئے اب زیادہ دیر نہیں ہونی چاہئے ‘۔ پروفیسر سوز نے کہا ‘اس سماج کی آواز کو زور دار اور ہندوستان گیر تحریک بنانے کے لئے کچھ میڈیا چینلوں نے بھی اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ہندو سماج کے آر ایس ایس ۔ بی جے پی سے وابستہ لیڈر سپریم کورٹ آف انڈیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو ہندو سماج کی یہ مجبور ی سمجھنی چاہئے کہ ایودھیا میں ہر صورت میں رام مندر تعمیر ہوگا’۔ انہوں نے کہا ‘آج کے دن سپریم کورٹ کے اندر جج صاحبان کی کیا کیفیت ہوگی ، اس سے لوگ بے خبر رہیں گے کیونکہ سپریم کورٹ آئین اور قوانین کے مطابق ہندوستان کے لوگوں کے سامنے اپنی رائے نہیں رکھ سکتے ۔ان کو جو کچھ بھی کہنا ہے وہ اسی موقع پر کہیں گے جب ان کو اپنا فیصلہ سنانا ہوگا!’۔ کانگریسی لیڈر نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ہر قیمت پر 2019ءکا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘آر ایس ایس ۔ بی جے پی کے لئے ایک اور مجبور ی ان کی سوچ ہے جس کے مطابق وہ ہر قیمت پر 2019ءکا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں ۔ ان کی سوچ میں اس بات کے لئے سب سے آسان اور مفید نسخہ ملک میں فرقہ ورانہ تناﺅ پیدا کرنا ہوگا۔ ہندوستان کے کچھ دانشور پہلے ہی اس بات سے باخبر ہیں کہ آر ایس ایس ۔ بی جے پی وہ سب کچھ کرنے والے ہیں جس سے ان کی سوچ کے مطابق اس سنگٹھن کو 2019ءمیں کامیابی حاصل ہوگی!’۔ پروفیسر سوز نے بیان میں کہا ‘ادھر قانون کی عمل داری کرنے والا سماج حیران بھی ہے اور پریشان بھی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ہندوستان کو جمہوری اصولوں پر قائم رہنا چاہئے اور آئین ہندوستان کی پاسداری کرنی چاہئے ۔ اسی میں ہندوستان کا صحیح مستقبل پوشیدہ ہے !’۔ انہوں نے مزید کہا ‘آج کے حالات میں قانون کی پاسداری کرنے والے لوگ اپنی مجبوری میں ملک کے نامور اور مقتدر قانون دان فالی ۔ ایس۔ ناریمان کے ساتھ اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھا رہے ہیں کہ خدا سپریم کورٹ آف انڈیا کو بچایئے ‘۔