این پی آر کو سپریم کورٹ میں چیلنج۔ عدالت نے حکومت سے مانگا جواب، سی اے اے کے ساتھ ہوگی سماعت

نئی دہلی:قومی آبادی رجسٹر NPR کے پورے عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں مرکزی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اب اس کی سماعت شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے ساتھ ہوگی۔ این پی آر کو نریندر مودی حکومت کی کابینہ نے گذشتہ سال دسمبر میں منظور کیا تھا۔ اس میں ، گھر گھر جاکر ایک رجسٹر تیار کیا جائے گا اورجس میں یہ ریکارڈ کیاجائیگا کہ کون ، کہاں رہتاہے

حال ہی میں ، شہریت ترمیمی قانون کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں اگلی سماعت اب فروری میں ہوگی۔ اب عدالت ،اس دن این پی آر پر بھی سماعت کرے گی۔ ہم آپ کو بتادیں کہ سپریم کورٹ میں سی اے اے کے خلاف 143 درخواستیں ہیں۔ سپریم کورٹ میں آخری سماعت کے دوران ، حکومت نے کہا کہ اس نے اب تک 60 درخواستوں کے جوابات تیار کیے ہیں۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ حکومت کو سی اے اے کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے جوابات کے لئے وقت درکار ہے ، جو اسے ابھی تک موصول نہیں ہوئے ہیں۔اس طرح عدالت نے مرکزی حکومت کو تمام درخواستوں کا جواب دینے کے لئے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ پانچویں ہفتے میں اس معاملے کی سماعت ہوگی۔

این پی آر کیا ہے؟

این پی آر دراصل قومی آبادی کا اندراج ہے۔ آبادی کے اندراج کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کسی دیہاتی یا دیہی علاقے یا قصبے یا کسی بھی وارڈ یا شہری علاقے کے مخصوص علاقے میں رہنے والے لوگوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ تاہم ملک میں این پی آر کو لیکر لوگوں میں کافی الجھن دیکھی جارہی ہے۔ لوگوں کا مانناہے کہ این پی آر اور این آرسی کا حصہ ہے۔ وہیں دوسری جانب حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ این پی آر اور این آرسی بالکل مختلف ہیں۔ حکومت کا کہناہے کہ این پی آر ، مردم شماری کی طرز پر کیاجانے والا عمل ہے۔این پی آر کے ذریعہ شہریوں کی نشاندہی کرکے شہریوں کی فلاح بہبود کے لیے اسکیمات مرتب کی جائیگی۔وہیں یہ بھی کہا جارہاہے کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) ملک کی سلامتی کو بہتر بنا سکتا ہے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے

HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me