نئی دہلی: ہندوستان میں گزشتہ سال کورونا وائرس کی وباء پھیلنے سے قبل سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کیخلاف جم کر مظاہرے ہوئے جو عالمی وباء کے سبب یکایک تھم گئے۔ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے منصوبوں کے خلاف شدید احتجاج ہوا لیکن حکومت شہریان اور مختلف احتجاجی سیاسی و غیر سیاسی گوشوں کو مطمئن کرنے میں نا کام رہی۔ یوں زائد از ایک سال گزر گیا۔ اب مرکزی وزارت امور داخلہ نے ظاہر طور پر نئی ’چال‘ کے ساتھ نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ 2019-20 ء میں اور باتوں کے ساتھ ساتھ این پی آر کا تذکرہ ہے۔ مرکزی حکومت ایک ویب پورٹل کے ذریعہ شہریان کو موقع فراہم کرنے والی ہے کہ این پی آر کو خود کو اپ ڈیٹ کرلیں۔ این پی آر کو پہلی مرتبہ 2010 ء میں شہری قواعد 2003 ء کے دفعات کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ 2015 ء میں چند نئے کالم جیسے نام ، جنس ، پیدائش کی تاریخ اور پیدائش کا مقام ، رہائشی مقام نیز والد اور والدہ کے نام کا اضافہ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ آدھار ، موبائیل اور راشن کارڈ نمبرس بھی جمع کئے گئے ۔ وزارت کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ این پی آر کو تین طریقوں کے ذریعہ اپ ڈیٹ کیا جائے گا جن میں سے ایک ویب سائیٹ پر از خود اپ ڈیٹ کرلینا ہے۔ دیگر دو طریقے گھر گھر جاکر کاغذ پر معلومات کا اندراج اور موبائیل کے ذریعہ ڈیٹا کا حصول ہیں۔ مرکزی کابینہ نے این پی آر کو اپ ڈیٹ کرنے کے پروگرام کیلئے 3,941.35 کروڑ روپئے کے مصارف کو منظوری دی ہے۔

این پی آر قومی آبادی کا وہ رجسٹر ہے جس میں ملک کے تمام معلوم کے ساکنان کی تفصیلات درج ہوں گی ، چاہے وہ ہندوستان کے شہری ہوں یا نہ ہوں۔ ملک کے زائد از 119 کروڑ ساکنان کا الیکٹرانک ڈیٹا پہلے ہی این پی آر کے تحت تشکیل دیا جاچکا ہے جو 2010 کی گھر گھر مردم شماری کے ساتھ کیا گیا تھا ۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے ساتھ این آر سی اور این پی آر کے مخالفین کا استدلال ہے کہ این پی آر کوئی علحدہ عمل نہیں بلکہ اسے این آر سی کی طرف پیش قدمی کے طور پر دیکھنا ہوگا،جو این آر سی مرحلہ کے بعد سی اے اے کو استعمال کرتے ہوئے لاکھوں افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنے والے دستاویزار نہ رکھنے کی پاداش میں محروس کرسکتا ہے ۔

اس خطرناک ترکیب کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے تمام اپوزیشن اور انسانی حقوق کے جہد کاروں و دیگر گوشوں نے اس پورے عمل کی شدت سے مخالفت کی ہے ۔ جملہ 13 ریاستوں اور مرکزی علاقوں نے این پی آر کو اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس کا متنازعہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اگرچہ حکومت نے این پی آر اور این سی کے درمیان ربط کی تردید کی ہے لیکن پہلے سے موجود قانون ان کے دعوے کی تائید نہیں کرتا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں