این پی آر 2020ءمینول بُک کے گریگورین کیلنڈر میں مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کا ذکر نہیں!

ناندیڑ:28فروری۔(ورق تازہ نیوز)قومی آبادی رجسٹر ( این پی آر) 2020(مردم شماری 2021) کا مینول بُک تیار ہوچکا ہے جس کو وزارت داخلہ امور حکومت بھارت نے ویب سائٹ پر اپ لوڈ بھی کردیا ہے ۔ جس کے گریگورین کیلنڈر میں مسلمانوں کے تہواروں کوشامل نہیں کیاگیا ہے ۔

یہ مینول بُک جملہ 48 صفحات پر مشتمل ہے ۔جس کے ANNEX-III کا نام
ٰImportant Festivals corresponding To Gregorian Months (اہم تہواروں کے گریگورین مہینے)۔دیاگیا ہے۔جس میں بھارت میں بسنے والے اہم مذاہب اور قومی تہواروں کے نام اور وہ کونسے مہینوں میں منعقد ہوتے ہیں ان مہینوں کے نام دئےے گئے ہیں ۔

index

ہرسال جنوری کے مہینہ میںسال نو ‘گوروگوبند سنگھ جینتی ‘ مکرسنگرانتی ‘ پونگل ‘ یوم جمہوریہ ‘ ایپاڈے تہوار منائے جاتے ہیں۔جنوری فروری میںبسنت پنچمی کا فروری مارچ میں مہارُشی دیانندسرسوتی جینتی ‘مہاشیوراتری ‘ ہولی ‘ مارچ اپریل میںگڑی پاڑوا ‘رام نومی ‘ اپریل میں بیساکھی ‘ بیہو‘ مہاویر جینتی‘گڈفرائیڈے ‘ مئی میںبودھ پورنیما‘جون جولائی میں رتھ یاترا جولائیاگست میں ناگ پنچمی ‘جنم اشٹمی ‘رکشابندھن (راکھی)‘ اگست میںیوم آزادی‘اگست ستمبر میںگنیش چتورتھی ‘ستمبراکتوبر میںاونم ‘ دسہرہ ‘دُرگا پوجا‘ نوراتری ‘اکتوبرنومبر میں گاندھی جینتی ‘ دیوالی ‘بھائی بیج ‘ مہاُرشی والمیکی جینتی ‘ چھت پوجا ‘ گوروونانک جینتی ‘ڈسمبر میں کرسمس‘ایپا تہوار منائے جاتے ہیں

لیکن اس فہرست میں مسلمانوں کے تہوار جیسے عیدالفطر ‘عیدالاضحی ‘عیدمیلادالنبی یوم عاشورہ کاذکر نہیںں ہے جو بڑی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔مسلمانوں کے ساتھ کی جانیوالی اس نا انصافی کے خلاف مسلمان حکومت ہند سے جواب طلب کرسکتے ہیں یا پھر اس تعلق سے سپریم کورٹ میںرٹ پٹیشن دائر بھی کی جاسکتی ہے ۔

Gregorianکیلنڈر کو انگلینڈ کے پوپ گریگوری XIII نے 24 فروری 1582 کو تیار کیا تھا اس نے جنوری تا ڈسمبر سال میںجو 12مہینوں کے نام دیئے تھے وہی آج ساری دنیا میں رائج ہیں ۔جنوری‘فروری وغیرہ گریگورین مہینے کہے جاتے ہے ۔