این پی آر کا بائیکاٹ وقت کی اہم ضرورت: عبدالرحمن( ،سابق آئی پی ایس آفیسر)

ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز)شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر ناندیڑ میں کل جماعتی تحریک کی جانب سے شاہین باغ ناندیڑ کی آواز کے عنوان سے بے مدت دھرنے میںاب تک کئی نامور ہستیوں نے شرکت کی ۔ان میں ایک اہم نام سابق آئی پی ایس آفیسر عبدالرحمن کا نام بھی شامل ہے ۔۸ مارچ یوم خواتین کے موقع پر عبدالرحمن نے شاہین باغ میں شرکت کی اور اپنے تاثر ات ظاہر کئے ۔جس میں انہوں نے کہاکہ سی اے اے ،این آرسی ،این پی آر کولیکر مسلمانوں میں ایک ڈر و خوف کا ماحول پیدا کیا جارہاہے لیکن ہمیں پوری امید ہے کہ یہ کالا قانون حکومت کو واپس لینا ہوگا ۔

فوٹو: منور خان پٹھان

ہماری لڑائی یہ اکیلے کی لڑائی نہیں بلکہ اس ملک کے دلت ،آدیواسی ،کسان ،مزدور اور پسماندہ طبقا ت کی لڑائی ہے آج ہمارے شاہین باغ کی یہ خواتین اس لئے بیٹھی ہے وہ صرف اور صرف انسانیت کو بچانے کےلئے آئین کو بچانے کے لئے یہاں پر بیٹھی ہے آج ہمیں فخر ہے کہ وہ جامعہ کی دو طالبات نے اس تحریک کو نئی سمت دی ۔اور آج دہلی کا شاہین باغ پچھلے ستر دنوں سے آباد ہے شاہین باغ کو بد نام کرنے کی حکومت نے بھر پور کوشش کی لیکن اس ملک کے دستور کو بچانے کےلئے ہماری مائیں بہنے ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔ایسی پانچ خواتین جن کی وجہ سے ہندوستان میں خواتین میں ایک نئی تحریک کا جذبہ پیدا ہوا ۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک میں بے روزگاری کو دورکرے ،کسانوں کے قرض معافی کے اقداما ت ،ملک میں بڑھ رہی بے روزگاری کو دور کرنے کے لئے اقدامات کرے یہ سب کرنے کے بجائے شہریت ترمیمی قانون لاکر ملک میں نفرت کا ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے.

انہوں نے کہا کہ یوپی کی یوگی حکومت کھلے عام غنڈہ گردی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔فساد ملزمین کےخلاف کاروائی کے نام پر ان کی تصویروںکو ہورڈنگ کر انہیں بد نام کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔عبدالرحمن نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ این پی آر ہی درآصل این آرسی ہے اس لئے این پی آر کا سختی سے بائیکاٹ کرنا ضروری ہے ۔جو لوگ آپ کے پاس این پی آر کے لئے آئیں گے انہیں کسی بھی طرح کی کوئی معلومات نہیں دیناہے ۔اس جلسہ سے کل جماعتی تحریک کے صدر مفتی ایوب قاسمی ،تحریک کے ذمہ داران میں شامل سید معین ،مولانا سرور قاسمی ،مولانا آصف ندوی ،مولانا عظیم رضوی ،شمیم عبداللہ و دیگر نے اپنے خیالات ظاہر کئے ۔