اپریل19تک جواب داخل کرنے کا جواب دہندگان سے عدالت نے استفسار کیا

نئی دہلی۔ایک عدالت نے مرکزی وزارت برائے تعلیم اور ڈائرکٹر نیشنل کونسل برائے تعلیم ریسرچ اور ٹریننگ(این سی ای آر ٹی)کے نام اس وقت ایک نوٹس جاری کی جب12ویں جماعت کی تاریخ کی نصاب کی کتاب میں مغبل حکمرانوں کی تعریف پر ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔

مذکورہ درخواست گذار نے کچھ مواد نکالنے کی مانگ کرتے ہوئے الزام لگایاہے کہ اس میں مغل حکمرانوں کی تعریف کی گئی ہے۔اپریل19تک جواب داخل کرنے کا جواب دہندگان سے عدالت نے استفسار کیا

تنازعہ کی شروعات کیسے ہوئی؟
اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب درخواست گذار پی سی بھنڈاری نے اپنے دعوی کے لئے ثبوت کے طور پر آرٹی ائی دائر کی تھی‘ جنگ کے دوران نقصان زدہ منادر کی مرمت کے لئے شاہ جہاں اور اورنگ زیب نے امداد کی اجرائی عمل میں لائی تھی‘ جو این سی ای آر ٹی کی بارہویں جماعت کی تاریخ کی نصابی کتاب کے صفحہ234پر تحریر ہے۔

جب آرٹی ائی کے جواب میں اس کے کوئی ثبوت موجود ہونے کی نفی میں جانکاری ملی‘ انہوں نے عدالت کا دروازہ اس مانگ کے ساتھ کھٹکھٹایا کے این سی آر ای ٹی کی نصاب کی کتاب سے متنازعہ مواد ہٹایاجائے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے‘ این سی ای آر ٹی پہلے بھی اپنی کتابوں کے مواد کو لے کر مورد الزام ٹہرایاجاچکا ہے۔

معاشرے کے بعض گوشوں کا الزام ہے کہ اس کا مواد بائیں بازونظریات نژادہے‘ جبکہ دیگر دعوی کرتے ہیں کہ مذکورہ تنظیم ہندوستانی تاریخ کو بھگوا رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے

این سی ای آر ٹی
این سی ای آر ٹی‘ مرکزی حکومت کا ایک خود مختار ادارہ ہے جس کی قیام 1961میں عمل میں آیاتھا۔

دیگر سرگرمیوں کے علاوہ یہ نصابی کتابوں کی اشاعت کرتا ہے‘ سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن(سی بی ایس ای)اپنے کلاس1سے 12ویں جماعت کے لئے طلبہ کے لئے این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں کے ذریعہ تعلیم دیتا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں