• 425
    Shares

،تصویر کا ذریعہFOUNDATION.APP/@SIDEEYEINGCHLOE

انٹرنیٹ پر دو برس کی بچی کلوئی کِلم کی وائرل ہونے والی ایک تصویر جو بعد میں مشہور میم بھی بن گئی کو این ایف ٹی کی صورت میں تقریباً 74 ہزار ڈالر میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ یہ میم دبئی کی ایک میوزک پروڈکشن کمپنی نے خریدی ہے۔

کلوئی کی والدہ نے سنہ 2013 میں سائیڈ آئینگ کلوئی کی تصویر جو اس کی اوریجنل ویڈیو سے حاصل کی گئی تھی کو انٹرنیٹ پر شائع کیا تھا۔

اس ویڈیو میں کلوئی یہ اعلان کر رہی ہیں کہ ان کی فیملی ڈزنی لینڈ جا رہی ہے۔ اس ویڈیو میں موجود لڑکیوں میں سے ایک للی نامی لڑکی رونا شروع کر دیتی ہے اور پھر کیمرے کی آنکھ کلوئی پر فوکس کرتی ہے جس پر وہ اپنے چہرے کا رخ ایک خاص انداز میں ایک طرف موڑ دیتی ہے۔

کلوئی جو ابھی دس سال کی ہیں کی یہ میم دو کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔ اس وقت انسٹا گرام پر کلوئی کے پانچ لاکھ سے زیادہ فالوئرز ہیں اور انھیں برازیل میں گوگل کے اشتہار میں بھی لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے۔

معاشیات کی زبان میں فنجیبل اثاثے سے مراد کوئی ایسی چیز ہے جس کا فوری تبادلہ ممکن ہو، جیسے روپے پیسے۔ اگر کوئی آپ کو 100 روپے کا نوٹ دیتا ہے تو آپ اس کا تبادلہ دو 50 روپے کے نوٹوں سے کرسکتے ہیں۔

این ایف ٹی ڈیجیٹل دنیا میں ‘اپنی نوعیت کے واحد’ اثاثے ہیں جن کی خرید و فروخت کسی دوسرے اثاثے کی طرح ممکن ہے۔ لیکن یہ مواد آن لائن موجود ہوتا ہے، ہمارے ہاتھوں میں کسی ٹھوس شکل میں نہیں۔

مہنگی فروخت ہونے والی تصویر میں خاص کیا ہے؟

اس تصویر میں جسے ’سائیڈ آئینگ کلوئی‘ یعنی ایک سائیڈ سے دیکھنے والی کلوئی کو جب اس کی والدہ ڈزنی لینڈ کے دورے کی حیرت انگیز خبر دیتی ہیں تو اس پر وہ ایک طرف اس انداز میں دیکھتی ہے کہ جیسے وہ ڈزنی لینڈ جانے سے انکاری ہو۔

کلم فیملی نے اپنی این ایف ٹیز یعنی ڈیجیٹل اثاثے 25 اتھریئم میں فروخت کیے ہیں۔ اتھریئم کرپٹو کرنسی کی ہی ایک صورت ہے۔

اس تصویر کو دبئی کی ایک میوزک پروڈکشن کمپنی تھری ایف میوزک نے خریدا ہے۔ تاہم اس کمپنی نے اس مہنگی خریداری سے متعلق بی بی سی کے پوچھے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

این ایف ٹیز کی خرید و فروخت کرپٹو کرنسی کے لیے کی جاتی ہے۔ ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے باوجود خریدار ایسی کسی تصویر کے جملہ حقوق کا مالک نہیں بن جاتا۔

کلوئی کلم کی ماں کیٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اویوٹا میں اپنے گھر پر بیٹھ کر اس نیلامی کو دیکھ رہی ہیں اور اس تصویر کی فروخت پر بہت خوش ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKATIE CLEM

،تصویر کا کیپشن

کلوئی کلم جو اب 10 برس کی ہیں، ان کی والدی کیٹی کلم کے ساتھ تصویر

کیٹی کے مطابق اگر ہم اس میم سیلز کی بنیادی بولی کو دیکھیں تو یہ نئی بولی قدرے کم ہے لیکن ہم اس فروخت پر بہت شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق پیسے کی اپنی دمک ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے یہ سب بطور خاندان کیا جو بہت خوشی والی بات ہے۔

رواں برس انٹرنیٹ پر این ایف ٹیز نے کئی ملین ڈالر بٹورے ہیں۔

فروری میں نیان کیٹ کی این ایف ٹی جس نے انٹرنیٹ پر خوب دھوم مچائی کو تین سو اتھریم پر فروخت کر دیا گیا جو آٹھ لاکھ 80 ہزار ڈالرز سے زیادہ بنتے ہیں۔

کیٹی کلم کا کہنا ہے کہ وہ اتھریئم کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق جس طرح کرپٹو کرنسی کی قدر میں تیزی سے تبدیلی رونما ہو رہی ہیں ایسے میں ہو سکتا ہے کہ اگلے ہفتے اتھریئم کی قیمت کئی گنا بڑھ جائے۔ تاہم یہ خاندان مستقبل قریب میں کچھ اتھریئم کو فروخت کرنا چاہتا ہے۔

ان کے مطابق وہ یقیناً اس رقم سے اگلے سال چھٹی پر والٹ ڈزنی کی سیر کو جائیں گے۔

حال ہی میں این ایف ٹی کی طلب میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ این ایف ٹیز تو بڑی نیلامی میں کئی ملین ڈالرز میں فروخت ہوتی ہیں۔

مارچ میں آرٹسٹ بیپل کا این ایف ٹیز کا نیلام گھر کرسٹی چھ کروڑ نوے لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا۔ اسی مہینے ٹوئٹر کے بانی جیک ڈورسی نے اپنے پہلے ٹویٹ کا این ایف ٹی 2.9 ملین ڈالر سے زائد کا فروخت کیا ہے۔

رواں برس پاکستان کے کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں اور سٹار کرکٹرز وسیم اکرم اور شعیب اختر کی جانب سے بھی اپنی چند کرکٹنگ کیرئر کی تصاویر کی این ایف ٹی حاصل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ حال ہی میں انٹرنیٹ پر وائرل ‘فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر’ نامی پاکستانی میم کا این ایف ٹی 52 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔

اس میم کے خالق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے آصف نے حال ہی میں اسے فاؤنڈیشن نامی این ایف ٹی پلیٹ فارم پر نیلامی کے لیے پیش کیا تھا۔ اسے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی کمپنی میکینزم کیپیٹل کے شریک بانی اینڈریو کینگ نے 20 ایتھر (کرپٹو کرنسی کی قسم) میں خریدا ہے۔ ایتھر کی موجودہ قدرو قیمت کے تحت پاکستانی کرنسی میں یہ رقم قریب 84 لاکھ روپے (قریب 52 ہزار امریکی ڈالر) بنتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹوکن کے ماحولیاتی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ کچھ کے خیال میں ان ٹوکن کی اس قدر زیادہ سرمایہ کاری وقتی ابال سے زیادہ کچھ نہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔