نئی دہلی: چین اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے ۔ جہاں اس وقت ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کورونا وائرس سے لڑ رہے ہیں ، وہیں چین لائن آف ایکچول کنٹرول پر کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ در اصل ، چین نے مشرقی لداخ میں ایک بار پھر اپنی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔ صرف یہی نہیں ، حال ہی میں چینی فضائیہ نے بھی ہند وستانی سرحد کے قریب ایک اہم جنگی مشق بھی کی تھی۔ چینی فضائیہ کی اس مشق کے بعد ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں الرٹ ہوگئیں۔

اعلی سرکاری ذرائع کے مطابق ، چینی فضائیہ کے تقریباً دو درجن لڑاکا طیاروں نے مشرقی لداخ خطے کے سامنے ہونے والی جنگی مشق میں حصہ لیا۔ یہ جنگی مشق اسی ایئر بیس سے کی گئی تھی جہاں سے چینی فوج نے مشرقی لداخ میں گذشتہ سال اپنے فوجیوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کی تھی۔

چینی فضائیہ نے تبت اور سنکیانگ صوبے کے الگ الگ ایئر بیس جنگی مشق کو انجام دیا ۔ ان ایئر بیسوں میں ہوٹان ، گر-گنسا ، کاسگر ، ہوپنگ ، ڈونگا-جونگ ، لنجھی اور پنگٹ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ چینی فضائیہ نے بھی اس مشق میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو بھی شامل کیا۔

وہیں ، ہندوستان نے اپنی اعلیٰ تیاری کو برقرار رکھنے کے لئے شمالی سرحدوں میں رافیل لڑاکا طیاروں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے علاوہ میگ 29 ایئر کرافٹ کی ایک پوری ڈیٹیچ منٹ لیہہ- لداخ تعینات ہے ۔بتادیں کہ حال ہی میں ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھدوریا نے لیہہ – لداخ کا دورہ کرکے ایئر فورس کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا تھا ۔